اسلام آباد: 100 سے 400 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 15 پیسے کمی کی درخواست پر نیپرا میں سماعت ہوئی۔ پاور ڈویژن حکام نے سماعت کے دوران بتایا کہ آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کی کھپت کا تخمینہ 103 ارب یونٹس لگایا گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کے لیے کھپت کا تخمینہ 106 ارب یونٹس تھا۔ مزید بتایا گیا کہ ملک کے 54 فیصد صارفین لائف لائن کیٹیگری میں شامل ہیں۔
نیپرا کے رکن مقصود انور نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ لائف لائن کیٹیگری بہت جلد ختم ہو جائے گی، کیونکہ ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر صارف اگلی کیٹیگری میں چلا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے پاس ایسے کیسز موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لائف لائن صارفین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔
رکن نیپرا رفیق نے کہا کہ لائف لائن کی ریڈنگز بڑھانے سے متعلق کئی شکایات موصول ہوئی ہیں، اور اس حوالے سے نیپرا اتھارٹی انکوائری کر رہی ہے۔
نیپرا اتھارٹی نے مالی سال 2025-26 کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 15 پیسے کمی کی حکومتی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ہے، اور اب اعداد و شمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 1 روپے 15 پیسے تک کمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، جس کے بعد زیادہ سے زیادہ ٹیرف 48.84 روپے سے کم ہو کر 47.69 روپے فی یونٹ ہو سکتا ہے۔
پاور ڈویژن کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے بنیادی ٹیرف میں کمی کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ اس میں 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے 3.95 روپے فی یونٹ اور 51 سے 100 یونٹ تک کے لیے 7.74 روپے فی یونٹ ٹیرف برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
100 یونٹ تک کا ٹیرف 1.15 روپے کمی کے بعد 10.54 روپے
101 سے 200 یونٹ تک 13.01 روپے فی یونٹ
نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے 100 یونٹ تک کا ٹیرف 22.44 روپے
101 سے 200 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 28.91 روپے
201 سے 300 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 33.10 روپے
301سے 400 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 37.99 روپے
401 سے 500 یونٹ کا ٹیرف 1.14 روپے کمی سے 40.22 روپے
501 سے 600 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 41.62 روپے
601 سے 700 یونٹ کا ٹیرف 1.16 روپے کمی سے 42.76 روپے
700 یونٹ سے زائد کا ٹیرف 1.15 روپے کمی سے 47.69 روپے فی یونٹ تجویز کیا گیا ہے۔