سفارتی میدان میں ایک اور کامیابی، کواڈ اتحاد کی پہلگام حملے کی مذمت لیکن پاکستان پر بھارتی الزامات مسترد

سفارتی میدان میں ایک اور کامیابی، کواڈ اتحاد کی پہلگام حملے کی مذمت لیکن پاکستان پر بھارتی الزامات مسترد

ایک اہم سفارتی پیشرفت کے طور پر، امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے 4 ملکی اتحاد ’کواڈ‘نے مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والےفالس فلیگ حملے کی مذمت تو کی، لیکن بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی حمایت سے مکمل گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد ریسرچ: پہلگام واقعہ پر مودی سرکار کی نا اہلی، نالائقی بے نقاب، نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت ایک حملہ آور بھی پکڑنے میں ناکام

’کواڈ ‘ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی اور بھارت کے یک طرفہ پروپیگنڈا مہم کے خلاف عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی مزاحمت قرار دیا جا رہا ہے۔

پہلگام حملے کے فوراً بعد بھارتی حکام نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا اور لائن آف کنٹرول کے پار جارحانہ کارروائیاں شروع کر دیں۔ پاکستان نے فوری طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔

واشنگٹن میں ہونے والے کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں صرف دہشتگردی کی مذمت کی گئی، لیکن پاکستان کا نام تک نہیں لیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کواڈ‘ اتحاد ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی، بشمول سرحد پار دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے‘۔ تاہم بھارتی کوشش کے باوجود اعلامیے میں پاکستان پر براہ راست الزام نہ لگانا بھارتی مؤقف کے لیے ایک سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان نے پہلگام واقعہ پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو گمراہ کرنے کی بھارتی کوشش ناکام بنا دی

بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت محدود اور دفاعی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کیں، جن کا ہدف صرف بھارتی فوجی تنصیبات تھیں۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستان نے 6 بھارتی لڑاکا طیارے، جن میں 3 جدید رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے اور متعدد ڈرون طیاروں کو تباہ کیا۔

یہ محدود جنگ 87 گھنٹے جاری رہی اور 10 مئی کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ اگرچہ بھارت ٹرمپ کے کردار کو تسلیم نہیں کرتا، پاکستان نے نہ صرف ان کی کوششوں کا خیر مقدم کیا بلکہ انہیں 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے باقاعدہ طور پر نامزد بھی کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کواڈ کا پاکستان کے خلاف بھارتی مؤقف کو مسترد کرنا اس حقیقت کا عکاس ہے کہ عالمی برادری اب بھارت کے جھوٹے الزامات اور جھوٹی کارروائیوں پر اندھا اعتماد نہیں کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی کالم نگار سشانت سنگھ نے مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ اور اپریشن سندور بارے سوالات اٹھا دیئے

اسلام آباد میں مقیم ماہرِ بین الاقوامی امور ڈاکٹر فریحہ نیازی کے مطابق ’ بھارت کا پروپیگنڈا بیانیہ دن بہ دن اپنی ساکھ کھو رہا ہے۔ ’کواڈ‘ کا پاکستان کے خلاف خاموش رہنا محض اتفاق نہیں بلکہ عالمی سطح پر ثبوت اور انصاف کو تسلیم کرنے کا واضح اشارہ ہے‘۔

پاکستان نے ایک بار پھر خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *