ایک اہم سفارتی پیشرفت کے طور پر، امریکا، جاپان، آسٹریلیا اور بھارت کے 4 ملکی اتحاد ’کواڈ‘نے مقبوضہ جموں کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والےفالس فلیگ حملے کی مذمت تو کی، لیکن بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی حمایت سے مکمل گریز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:آزاد ریسرچ: پہلگام واقعہ پر مودی سرکار کی نا اہلی، نالائقی بے نقاب، نام نہاد سب سے بڑی جمہوریت ایک حملہ آور بھی پکڑنے میں ناکام
’کواڈ ‘ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے کو پاکستان کی سفارتی کامیابی اور بھارت کے یک طرفہ پروپیگنڈا مہم کے خلاف عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی مزاحمت قرار دیا جا رہا ہے۔
پہلگام حملے کے فوراً بعد بھارتی حکام نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کیا اور لائن آف کنٹرول کے پار جارحانہ کارروائیاں شروع کر دیں۔ پاکستان نے فوری طور پر ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔
Met with the Quad Foreign Ministers to discuss our work together to increase peace, stability, security, and prosperity in the Indo-Pacific region. pic.twitter.com/53TR6KEZ7s
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) July 1, 2025
واشنگٹن میں ہونے والے کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں صرف دہشتگردی کی مذمت کی گئی، لیکن پاکستان کا نام تک نہیں لیا گیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کواڈ‘ اتحاد ہر قسم کی دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی، بشمول سرحد پار دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے‘۔ تاہم بھارتی کوشش کے باوجود اعلامیے میں پاکستان پر براہ راست الزام نہ لگانا بھارتی مؤقف کے لیے ایک سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے پہلگام واقعہ پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو گمراہ کرنے کی بھارتی کوشش ناکام بنا دی
بھارت کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے تحت محدود اور دفاعی نوعیت کی فوجی کارروائیاں کیں، جن کا ہدف صرف بھارتی فوجی تنصیبات تھیں۔ ان کارروائیوں کے دوران پاکستان نے 6 بھارتی لڑاکا طیارے، جن میں 3 جدید رافیل بھی شامل تھے، مار گرائے اور متعدد ڈرون طیاروں کو تباہ کیا۔
.@SecRubio hosted the Quad Foreign Ministers’ Meeting to strengthen U.S. and Indo-Pacific prosperity and security. The Quad will unveil new efforts to address the region’s most pressing challenges. pic.twitter.com/mdTIJbh5PR
— Department of State (@StateDept) July 2, 2025

