ویب ڈیسک: بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے 10 مئی کی صبح بھارت پر “بہت بڑا حملہ” کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس رات پاکستان نے واقعی بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔
جے شنکر نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اس کمرے میں موجود تھا جب امریکی نائب صدر نے 9 مئی کی رات وزیر اعظم مودی سے بات کی اور خبردار کیا کہ اگر بھارت نے کچھ معاملات میں لچک نہ دکھائی تو پاکستان ایک بڑا حملہ کرے گا۔
جے شنکر ان دنوں امریکہ میں کواڈ (QUAD) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جہاں بھارت کو سفارتی سطح پر مسلسل ناکامیوں کا سامنا ہے۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت نہ تو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے رکن ممالک کو پاکستان کے خلاف کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے پر آمادہ کر سکا، اور نہ ہی کواڈ اجلاس کے مشترکہ بیان میں پاکستان کا نام شامل کرا سکا۔
کواڈ کے مشترکہ بیان میں صرف یہ کہا گیا کہ کواڈ ہر قسم کی دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی، بشمول سرحد پار دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، اور انسداد دہشت گردی کے تعاون کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔
یہ صورتحال اُس وقت مزید واضح ہو گئی جب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے SCO اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ رکن ممالک نے پاکستان کے خلاف کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عالمی سطح پر مسلسل ناکامیوں اور تنہائی کا سامنا کرتے ہوئے بھارت کی سفارت کاری پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔