وزیراعظم شہباز شریف ’ای سی او‘ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج ’باکو‘ روانہ ہوں گے

وزیراعظم شہباز شریف ’ای سی او‘ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آج ’باکو‘ روانہ ہوں گے

وزیرِاعظم شہباز شریف آج سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں شروع ہونے والے دو روزہ 17ویں اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے اجلاس میں شرکتکریں گے۔

یہ اجلاس ’ایک نئے ای سی او وژن برائے پائیدار اور ماحولیاتی طور پر مضبوط مستقبل‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہو رہا ہے، جس میں رکن ممالک کے رہنما علاقائی چیلنجز، اقتصادی اور ماحولیاتی تحفظ پر تبادلہ خیال کریں گے۔

وزیرِاعظم پاکستان شہباز شریف 2 روزہ اجلاس کے دوران پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے اور اہم علاقائی و عالمی مسائل پر اسلام آباد کا مؤقف پیش کریں گے۔ وہ ’ای سی او‘  وژن 2025 کے لیے پاکستان کے عزم کو دہرائیں گے اور علاقائی تجارت میں اضافہ، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں میں بہتر رابطے اور پائیدار ترقی کے لیے زور دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا بھارت کی معیشت پر ایک اور وار: خصوصی کھاد کی ترسیل بند، بھارت کی زراعت مفلوج

’ای سی او‘ کا آغاز 1964 میں قائم شدہ ریجنل کوآپریشن برائے ڈیولپمنٹ ( آر سی ڈی ) سے ہوا تھا، جو 1985 میں اقتصادی تعاون تنظیم میں تبدیل ہو گیا اور اب یہ جنوبی اور وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے 10 رکن ممالک پر مشتمل ہے۔ یہ اجلاس رکن ممالک کے لیے اقتصادی تعاون اور ماحولیاتی چیلنجز پر تبادلہ خیال کا اہم موقع ہے۔

اجلاس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف ای سی او کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے جن میں اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور ماحولیاتی مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔

پاکستان نے بارہا اپنے کم عالمی کاربن اخراج کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے باعث اپنی حساسیت کو اجاگر کیا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، غیر متوقع بارشیں اور گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ نے ملک کو قدرتی آفات کے سامنے بے بس کر کے رکھ دیا ہے، جو خوراک کے تحفظ، صحت عامہ اور معیشت کو شدید خطرات میں ڈال رہے ہیں۔

سال 2022 کے تباہ کن سیلابوں نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے شدید خطرات کو اجاگر کیا، جس سے 33 ملین سے زیادہ افراد متاثر ہوئے، 1,700 سے زیادہ جانیں گئیں اور 8 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو گئے۔ سیلاب سے انفراسٹرکچر اور فصلوں کو تقریباً 14.8 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ مجموعی معاشی نقصان 15.2 ارب ڈالر تک پہنچا۔ انسانی بحران بہت شدید تھا اور کئی متاثرین نے عارضی پناہ گزین مراکز میں محدود سہولیات کے ساتھ زندگی بسر کی۔

وزیرِاعظم شہباز شریف اپنی تقریر میں پاکستان کی موسمیاتی کمزوری کو اجاگر کرتے ہوئے ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ کریں گے اور بین الاقوامی برادری سے تعاون اور علاقائی تعاون کے فروغ پر زور دیں گے۔

باکو میں ای سی او کا یہ اجلاس ایک اہم موقع ہے جہاں رکن ممالک پائیدار ترقی اور موسمیاتی تحفظ کے مشترکہ وژن کے تحت متحد ہو کر عالمی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *