بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نئے چیف پراگ جین کے 1989 سے 2025 تک کالے کرتوتوں کے ثبوت سامنے آ گئے اور انکی کالے کرتوتوں اور ظلم کی داستانوں کے خلاف سکھ کمیونٹی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نئے چیف پراگ جین 30 جون 2025 کو را کے چیف کے تقرر کیا گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بھارتی گودی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ ایک نفیس انسان ہیں لیکن ان کے اصلیت اس کے بالکل مختلف ہے۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق پراگ جین نے ۱۹۸۹ میں انڈین پولیس جوائن کی اور یہ وہ وقت تھا جب بھارتئ پنجاب میں سکھوں کی علیحدگی کی تحریک عروج پر تھئی اور انہوں نے بھارتی پنجاب میں سکھ کمیونٹی پر جو ظلم کی داستانیں رقم کیں انہیں یاد کر کے آج بھی سکھ کمیونٹی خون کے آنسو روتی ہے۔
1989 میں بھارتی پنجاب میں سکھوں پر جو ظلم کی داستانیں رقم ہوئیں اس ظلم و ستم میں پراگ جین نے کلیدی کردار ادا کیا اور سینکڑوں سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بھارتی فوج صرف فلموں میں جنگ لڑ سکتی ہے، پاکستان نے بھارتی افواج کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے، بھارتی میڈیا کا اعتراف
پراگ جین سکھ نوجوانوں پر ٹارچر اور قتل میں براہ راست ملوث تھے، آزاد فیکٹ چیک کے مطابق پراگ جین سر ی لنکا میں باغی گرہوں کی سرکوبی میں بھی پیش پیش تھے اور اور سری لنکا میں انہیں باغی گروپوں کی سر کوبی کے لیئے خصوصی مشن پر تعین کیا گیا اور وہاں انہوں نے سینکڑوں باغی عناصر کا قتل کیا۔ پراگ جین کینڈا میں سکھوں کی سرکوبی کے لیئے بھی پیش پیش رہے اور کینڈا میں انہوں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ایک خفیہ سلیپر سیل بھی قائم کیا ۔
پراگ جین کے سکھوں پر ظلم و ستم کے بعد اب انکی را چیف کے طور پر تقرری پر کینڈا کی سکھ کمیونٹی کی جانب سے خصوصی مطالبے سامنےآ ئے ہیں اور انکی تقرری کے خلاف باقاعدہ کینیڈین حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بھارتئ حکومت سے مطالبہ کریں کہ را کے خفیہ ایجنٹ جو سفارتکار کے آڑ میں کینڈا میں ٓتے ہیں ان کے خلاف ایکشن لیا جائے۔
پراگ جین ایک ایسا کرمنل ہے جس کے ہاتھوں پر ہزاروں لوگوں کا خون ہے اور انکی تقرری خطے میں مزید ظلم و ستم کا بازار شروع کریگا۔