ایران کی فضائی حدود سے متعلق بھارتی (ر) جنرل بخشی کا گمراہ کن دعویٰ بے نقاب

ایران کی فضائی حدود سے متعلق بھارتی (ر) جنرل بخشی کا گمراہ کن دعویٰ بے نقاب

آزاد فیکٹ چیک نے ریٹائرڈ بھارتی فوجی افسر میجر جنرل (ڈاکٹر) جی ڈی بخشی، ایس ایم، وی ایس ایم  کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پھیلائی گئی غلط معلومات کو بے نقاب کیا ہے۔

 بھارتی (ر) جنرل بخشی نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور امریکہ نے اپنے تمام شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ ایران مبینہ طور پر اسرائیل پر نئے میزائل حملوں اور تہران میں ڈرون حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔

ریٹائرڈ جنرل نے اس صورتحال کو “ایران-اسرائیل تنازع کے دوسرے دور کا آغاز” قرار دیتے ہوئے ممکنہ بڑے تصادم کا تاثر دیا۔

تاہم آزاد فیکٹ چیک کی تحقیق کے مطابق یہ دعوے سراسر بے بنیاد ہیں کیونکہ جس وقت یہ ٹویٹ کی گئی، ایران کی فضائی حدود کھلی تھیں اور بین الاقوامی کمرشل پروازیں ایرانی حدود استعمال کر رہی تھیں، اس حوالے سے  نہ ایرانی حکام کی طرف سے فضائی حدود بند ہونے کا کوئی اعلان سامنے آیا اور نہ ہی بین الاقوامی ایوی ایشن اداروں (جیسے NOTAM) کی طرف سے کوئی الرٹ جاری کیا گیا۔

کمرشل فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا سے بھی واضح ہوتا ہے کہ طیارے ایران کے اوپر سے معمول کے مطابق پرواز کر رہے تھے،  اسی طرح امریکی شہریوں کو نکالنے کے حوالے سے بھی کوئی نیا ہنگامی یا لازمی انخلاء کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

موجودہ امریکی ٹریول ایڈوائزری، جو جون سے جاری ہے، امریکی شہریوں کو ایران سے دور رہنے اور ملک چھوڑنے کا مشورہ دیتی ہے، لیکن یہ حالیہ واقعات سے متعلق نہیں بلکہ ایران میں موجودہ خطرات جیسے گرفتاری کے خدشات سے متعلق ہے لہٰذا، ایران کی فضائی حدود کی بندش اور امریکی شہریوں کے فوری انخلاء سے متعلق دعوے یا تو گمراہ کن ہیں یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا نے اپنے شہریوں کیلئے پاکستان اور بھارت کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی

ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، لیکن سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جھوٹے اور مبالغہ آمیز دعووں کا پھیلاؤ دنیا بھر میں افواہوں اور خوف کی فضا پیدا کر سکتا ہے۔

جنگی زبان اور اشتعال انگیزی پر مبنی بیانیہ

جنرل بخشی کی جانب سے استعمال کی گئی زبان نہ صرف قیاس آرائی پر مبنی ہے بلکہ اشتعال انگیز بھی ہے،  ان کے الفاظ، جیسے کہ “دنیا کو مسلسل جنگ اور خونریزی سے ایک وقفے کی ضرورت تھی”، یا ایران پر الزام کہ وہ مسلم دنیا میں مکمل طور پر تنہا ہو چکا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے جیسے غیر ضروری اور اشتعال انگیز مؤقف رکھتا ہے، غیر ذمہ دارانہ اور غیر سفارتی ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ایسے بیانات سامنے آئے ہوں جو بھارتی فوج یا قوم پرست حلقوں سے جڑے افراد کی جانب سے دیے گئے ہوں، جن میں مغربی ایشیا کے تنازعات پر جذباتی اور جنگجویانہ مؤقف اپنایا گیا ہو ، یہ رویہ اس وسیع رجحان کا حصہ ہے جس میں بغیر کسی سفارتی فہم یا ذمہ داری کے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کشیدگی کو ہوا دی جاتی ہے اور بھارت میں یہ رجحان بدرجہ اتم موجود ہے ۔

دوہرا معیار اور داخلی تضادات

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جو افراد ایران جیسے ممالک کو “عقلمند ریاستی کردار” ادا کرنے کی تلقین کرتے ہیں، وہی اکثر اپنی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور داخلی جبر کو نظر انداز کرتے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سابق فوجی افسران کو خارجہ پالیسی پر عوامی بیانیہ تشکیل دینے کا غیر معمولی اثر حاصل ہوا ہے، جس سے سفارتی توازن متاثر ہوتا جا رہا ہے ، یہ رجحان نہ صرف عالمی تنازعات پر عوامی فہم کو متاثر کرتا ہے بلکہ بھارت کے عالمی سطح پر معلوماتی اعتبار کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

فیکٹ چیک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی خبروں کو سچ ماننے سے پہلے معتبر ذرائع سے تصدیق ضرور کریں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *