ویب ڈیسک۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ تو ختم ہو چکی ہے، لیکن اس جنگ نے پاکستان کے خلاف بھارت اور اسرائیل کی ممکنہ جنگی منصوبہ بندی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ خطرہ محض خیالی تصور نہیں رہا، بلکہ اب اس کے ثبوت بھی موجود ہیں جنہیں آج منظرِ عام پر لایا جا رہا ہے۔
یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے قریبی اتحادی ہیں۔ معروف امریکی جریدے Foreign Policy نے حالیہ دنوں میں بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری اتحاد پر متعدد مضامین شائع کیے ہیں۔ جنوبی افریقی صحافی آزاد عیسیٰ، جو کتاب Hostile Homelands کے مصنف بھی ہیں، کا ماننا ہے کہ بھارت کی اسرائیل سے قربت دراصل مودی کی سیاست میں موجود مسلم دشمنی سے جڑی ہوئی ہے۔
جنوبی افریقی صحافی آزاد عیسیٰ نے کشمیری علاقے میں بھارتی فوج اور فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی افواج کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے مطابق مودی اور نیتن یاہو کا اتحاد صرف دو افراد کا نہیں بلکہ دو نظریات، صہیونیت (Zionism) اور ہندوتوا، کا اتحاد ہے۔
سینئر صحافی حامد میر اپنے کالم میں لکھا ہے کہ 2017 میں، مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے۔ ان کی ہندوتوا سوچ صہیونیت سے متاثر ہے۔ بہت سے ہندو قوم پرستوں نے کھل کر کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے اسرائیل جیسے ماڈل کی حمایت کی ہے، جس میں مسلم اکثریتی وادی میں آبادیاتی تبدیلیوں کی بات کی گئی ہے۔ بھارت نے مئی 2025 میں پاکستان سے شکست کے بعد اسرائیل اور مغربی ممالک سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدنا شروع کیا ہے۔
اب بھارتی اسٹیبلشمنٹ اسرائیل کی مدد سے پاکستان سے بدلہ لینے کے لیے بے تاب ہے۔ اسرائیل میں کئی افراد پاکستان کے ایران کی حمایت پر ناراض نظر آتے ہیں۔ جنگ کے دوران 18 جون کو اسرائیلی پروفیسر میر مصری، جو ہیبرو یونیورسٹی یروشلم میں جیو پولیٹکس کے ڈائریکٹر اور سابق نائب وزیر دفاع رہ چکے ہیں، نے عربی میں ایک پوسٹ میں لکھا کہ “ایران کی مہم کے بعد، ہم پاکستان کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں”۔ متعدد بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی ایسی ہی باتیں کیں۔
بھارتی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس بھی دیکھی گئیں جن میں کہا گیا کہ… ’’پاکستان کو غیر جوہری بنانا آپریشن سندور کا آخری مرحلہ ہے‘‘۔
یہ نظریات صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے۔ یورپی ویب سائٹ Modern Diplomacy نے 24 جون 2025 کو ڈاکٹر جولیان اسپنسر چرچل کا مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: Once Israel Defeats Iran, Pakistan is Next۔ ڈاکٹر جولیان، کونکورڈیا یونیورسٹی، کینیڈا میں بین الاقوامی سیاست کے پروفیسر ہیں۔
انہوں نے اپنے مضمون کی ابتدا اسرائیلی پروفیسر میر مصری کی دھمکی سے کی اور مزید لکھا کہ جس طرح ایران کو عراق کی طرز پر غیر مؤثر بنایا گیا، پاکستان اب اسرائیلی جوہری مخالف حکمت عملی کا اگلا ہدف بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ بھارت کو بنیاد بنا کر فضائی حملے، کروز میزائل یا ڈرون حملے پاکستان کے جوہری اثاثوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک روایتی بھارتی زمینی حملہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ پاکستان کو سندھ اور پنجاب میں تقسیم کر کے آزاد کشمیر پر قبضہ کیا جا سکے، اور چین کی گوادر تک رسائی ختم کی جا سکے۔
سینئر صحافی حامد میر کے مطابق اسلحے کے حالیہ سودوں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کئی اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں بھارت میں فیکٹریاں قائم کر چکی ہیں جو نہ صرف میزائل بلکہ ڈرون بھی تیار کرتی ہیں۔ 2018 میں اڈانی گروپ نے اسرائیلی کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے ساتھ مل کر فوجی ڈرون Hermes 900 UAV تیار کرنے کے لیے شراکت کی۔ اڈانی نے حیدرآباد میں ایک فیکٹری بنائی جہاں 85 فیصد ڈرونز صرف اسرائیلی افواج کے لیے تیار کیے گئے۔ انہی ڈرونز کو حالیہ ایران جنگ میں استعمال کیا گیا۔ بھارت نے یہی ڈرونز مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف استعمال کیے، لیکن پاکستانی دفاعی نظام نے انہیں ناکام بنا دیا۔ اڈانی گروپ Haifa بندرگاہ میں 70 فیصد حصے کا مالک ہے، جو حالیہ ایرانی میزائل حملے میں تباہ ہو گئی۔
حامد میر اپنے کالم میں مزید لکھتے ہیں کہ اگرچہ بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خلاف بڑی سازشیں کر رہے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان نہ تو لبنان ہے، نہ غزہ اور نہ ہی ایران۔ نئی دہلی اور تل ابیب کی یہ دوستی مودی کے لیے ایک اور ذلت کا سبب بن سکتی ہے، جو اب “سرینڈر مودی” کے نام سے مشہور ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے مئی 2025 میں بھارتی فضائیہ کے سات طیارے مار گرائے جن میں چار رافیل جیٹس بھی شامل تھے۔ پاکستان کا فضائی دفاعی نظام ایران کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
پاکستان کے بیلسٹک میزائل ایران سے کہیں زیادہ مؤثر اور خطرناک ہیں۔ حالیہ جنگ میں پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا جبکہ بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا۔ بھارت نے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت پر شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے بیان کی بھی حمایت نہیں کی۔ بھارت غزہ میں نسل کشی کی حمایت کر رہا ہے کیونکہ اسرائیل کی حمایت اس کے قومی مفاد کا حصہ بن چکی ہے۔ مودی اسرائیل کے تعاون سے پاکستان پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کیونکہ وہ کشمیر کو دوسرا غزہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ بھارت نواز کشمیری رہنما فاروق عبداللہ بھی اب کہنے لگے ہیں کہ اگر بھارت نے کشمیر مسئلہ مذاکرات سے حل نہ کیا تو کشمیر واقعی دوسرا غزہ بن جائے گا۔
حامد میر کے مطابق مودی دراصل ایک خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔ انہیں بہار کے اکتوبر 2025 کے انتخابات سے پہلے پاکستان کے خلاف کوئی فتح چاہیے۔ پاکستان پر جنگ یا کشمیر میں نسل کشی اب ان کی سیاسی ضرورت بن گئی ہے۔ لیکن وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اب 1971 نہیں بلکہ 2025 ہے۔ پاکستان، بھارت اور اسرائیل کو کشمیر کو دوسرا غزہ نہیں بنانے دے گا۔ مودی اور نیتن یاہو کو پاکستان کو غیر جوہری بنانے کا خواب چھوڑ دینا چاہیے۔ پاکستان کے شاہین-III میزائل، جن کی رینج 2,750 کلومیٹر ہے، بھارت ہی نہیں بلکہ اسرائیل کو بھی غیر جوہری بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔