بھارت میں بی جے پی کے سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی غنڈہ گردی نے ریاستی اداروں، جمہوری اقدار، اور قانون کی حکمرانی کو سخت خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
مودی کے بھارت میں ریاستی ادارے سیاسی غنڈوں کے رحم و کرم پر ہیں جہاں بھارتی سرکاری افسران بھی بی جے پی غنڈوں کے ہاتھوں غیر محفوظ نظر آتے ہیں ، منی پور سے کولکتہ اور کشمیر سے اوڈیشہ تک، مودی سرکار کے سیاسی غنڈوں کی ریاستی دہشتگردی عروج پر ہے اور سرکاری افسران کو دن دہاڑے دفاتر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔
دی انڈین ایکسپریس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، بی جے پی کے رہنماء جگن ناتھ پردھان اور ان کے حامیوں نے اوڈیشہ کے دارالحکومت بھوبنیشور میں سینئر سرکاری افسر رتناکر ساہو کو ان کے دفتر سے گھسیٹ کر سرعام تشدد کا نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق، یہ تشدد اس وقت کیا گیا جب مذکورہ افسر نے جگن ناتھ پردھان سے مبینہ “معافی” مانگنے سے انکار کیا۔ اس واقعے کے بعد اوڈیشہ کے اعلیٰ سرکاری افسران خوف کا شکار ہو گئے اور احتجاجاً اجتماعی طور پر چھٹی پر چلے گئے۔ دو روز سے ریاست کے 20 سے زائد اضلاع میں انتظامی مشینری مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے بھارت کی قیمت، فن، شناخت اور آزادیِ اظہار پر بڑھتا سیاسی دباؤ
اوڈیشہ ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار کی خاموشی سیاسی غنڈوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی کھلی چھوٹ دے رہی ہے۔ایسوسی ایشن نے بی جے پی رہنما ءجگن ناتھ پردھان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جب تک سخت اور واضح کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی، ریاستی افسران ڈیوٹی پر واپس نہیں آئیں گے۔
یہ صرف اوڈیشہ تک محدود معاملہ نہیں، مودی حکومت میں منی پور سے کولکتہ اور کشمیر سے اوڈیشہ تک سیاسی غنڈہ گردی کا راج ہے۔ سرکاری افسران، صحافی، اور سماجی کارکن بی جے پی کے شدت پسند عناصر کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ پولیس اور دیگر ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مودی سرکار نے بھارت کو جمہوریت کی بجائے ہندو انتہا پسندی اور ریاستی دہشت گردی کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں اختلاف رائے اور پیشہ ورانہ دیانتداری کو طاقت کے ذریعے کچلا جا رہا ہے۔