بھارت اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع پنجاب کے گاؤں فتووالا میں ایک پرانی زمین کا تنازع اس وقت ابھر کر سامنے آیا ہے جب بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بھارتی فضائیہ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان سے ملحقہ فتووالا گاؤں کی زمین 1945 سے وزارتِ دفاع کی ملکیت ہے، جبکہ متاثرہ خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف ایک فوجی قبضہ ہے جسے قومی سلامتی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے۔
بھارتی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ متنازع زمین کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانوی دور میں ایک ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا اور بعد میں اس کا کردار 1962، 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی رہاہے۔
بھارتی فضائیہ نے 1997 میں جعلی دستاویزات کے ذریعے فروخت کرنے کا الزام ایک خاتون اوشا انسل اور ان کے بیٹے نوین چند انسل پر عائد کیا ہے۔
کیا بھارتی فضائیہ کی زمین پر قبضہ کیا گیا؟
اگرچہ بھارتی فضائیہ اور پنجاب کی ویجیلنس بیورو کا مؤقف ہے کہ یہ زمین ہمیشہ وزارتِ دفاع کی ملکیت رہی اور اس پر ناجائز قبضہ کیا گیا، تاہم اوشا انسل اور ان کے بیٹے کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین ان کی وراثتی ملکیت تھی، جسے انہوں نے قانونی طور پر فروخت کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین ایئر فورس ( آئی اے ایف ) نے اس زمین پر حالیہ دنوں میں اس وقت دعویٰ کیا جب اس کی جغرافیائی اہمیت بڑھ گئی اور یہاں نیا ایئر بیس بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارتی فضائیہ کا یہ دعویٰ اس وقت مزید مشکوک ہو گیا جب پتا چلا کہ 1997 کے بعد سرکاری ریکارڈ میں اس زمین کے مالکان مختلف افراد کے طور پر درج ہیں۔ اس کا انکشاف ریٹائرڈ ریونیو افسر نشان سنگھ نے کیا، جنہوں نے کئی برسوں تک انصاف کے لیے جدوجہد کی، لیکن انہیں صرف عدالتِ عالیہ کی مداخلت کے بعد ہی شنوائی ملی۔
زمین کی 2025 میں واپسی، لیکن اصل مالک کون؟
پاکستان کے ساتھ فضائی جھڑپ کے فوری بعد مئی 2025 میں ضلعی انتظامیہ نے اس زمین کو وزارتِ دفاع کو منتقل کر دیا۔ جون کی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ برطانوی حکومت نے یہ زمین 1945 میں دفاعی استعمال کے لیے حاصل کی تھی۔ تاہم مبصرین اس فیصلے کے وقت اور شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں اور اسے طاقت کے ناجائز استعمال کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
اوشا انسل اور ان کے بیٹے، جو 1990 کی دہائی سے دہلی میں مقیم ہیں، اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھارتی فضائیہ نے قومی سلامتی کے نام پر ان کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔
ریونیو اہلکاروں کا کردار مشکوک
تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ کئی مقامی ریونیو اہلکاروں نے 1997 میں اس زمین کی جعلی خرید و فروخت میں کردار ادا کیا۔ مختیار سنگھ، جگیر سنگھ، منجیت کور اور دیگر افراد کے نام جعلی کاغذات میں شامل کیے گئے ہیں، جبکہ بعض افسران نے مبینہ طور پر رشوت لے کر آنکھیں بند کر لیں۔ ویجیلنس بیورو کی انسپکٹر جگندیپ کور اس کیس کی تفتیش کر رہی ہیں۔
ضلع فیروز پور کے ایس ایس پی بھوپندر سنگھ نے تصدیق کی ہے کہ عدالت کے احکامات پر کلگڑھی تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ لیکن بعض مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صرف نچلے درجے کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اصل مسئلہ بھارتی فضائیہ کی کارروائی ہے۔
دہائیوں پرانا معاملہ اب کیوں اٹھایا جا رہا ہے، دفاعی ماہرین
دوسری جانب دفاعی ماہرین اس پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ دہائیوں پرانے معاملے کو اب کیوں اٹھایا جا رہا ہے۔
مقامی افراد اور غیر جانب دار مبصرین نے اس اچانک دعوے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ’بھارتی حکومت اس سرحدی علاقے کو عسکری زون میں تبدیل کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کو جواز دینے کے لیے اب وہ ایک پرانے کیس کو زندہ کر کے ماں بیٹے کو زمین فروخت کے الزام میں گھسیٹ رہے ہیں‘۔اس زمین کے اصل مالک مدن موہن لال 1991 میں وفات پا چکے تھے۔
ماہرین کے مطابق اب بھارت اس مقام پر ایک جدید ایئربیس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں سے اس کا مقصد پاکستان کے خلاف جارحیت کرنا ہے۔ دفاعی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ’یہ صرف زمین کا تنازع نہیں، بلکہ بھارت کی جانب سے ایک واضح فوجی جارحیت کا اشارہ ہے۔ بھارت کی جانب سے اسے ‘ایئراسٹرپ اسکینڈل’ قرار دینا صرف ایک بیانیہ بنانے کی کوشش ہے، تاکہ فوجی توسیع کو قانونی رنگ دیا جا سکے‘۔
بین الاقوامی مبصرین مطالبہ کر رہے ہیں کہ بھارتی فضائیہ کے دعوؤں کی غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں، کیونکہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔