برکس کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بھارت ہے، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی ایم ایف

برکس کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بھارت ہے، سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی ایم ایف

ویب ڈیسک۔ برازیلی ماہرِ معیشت اور آئی ایم ایف کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر پالو نوگیرا باٹسٹا جونیئر نے بھارت کے برکس میں کردار اور بھارت اسرائیل تعلقات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں بھارت برکس کے لیے ایک مسئلہ رہا ہے۔ درحقیقت، شاید برکس کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ بھارت ہی ہے۔ بھارت ایک الگ تھلگ اور غیر مربوط کردار ادا کر رہا ہے۔ بعض لوگ تو اسے برکس میں شامل ایک ‘ٹروجن ہارس’ تک کہتے ہیں، حالانکہ میں اتنی شدت سے بات نہیں کہوں گا، لیکن مودی کے رویے میرے لیے ضرور حیران کن ہیں۔

انہوں نے مودی حکومت پر اسرائیل کی کھلی حمایت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ مودی اسرائیل کی کیسے حمایت کر سکتے ہیں؟ وہ نیتن یاہو سے خوشگوار تعلقات کیسے رکھ سکتے ہیں جب اسرائیل جو کچھ غزہ میں کر رہا ہے، وہ دنیا دیکھ رہی ہے؟ بھارتی عوام اپنے وزیر اعظم کو نسل کشی کے مجرموں کا ساتھ دیتے دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہوں گے؟

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مسلمان یرغمال بن چکے ہیں، ہم آئینی انصاف مانگتے ہیں: اسدالدین اویسی

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نہ صرف ایران پر امریکا اور اسرائیل کے یکطرفہ حملوں پر خاموش رہا، بلکہ اس کی پالیسیز سے یہ تاثر ملا کہ وہ شاید چین کے خوف سے امریکی مفادات سے قربت برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔

پروفیسر پالو کا کہنا تھا کہ بھارت کا یہ رویہ برکس کے اندر کمزوری اور باہمی بداعتمادی کا باعث بن رہا ہے، اور بھارت کا کردار اب عالمی سطح پر “اسپائلر” یعنی رکاوٹ بننے والا تصور کیا جانے لگا ہے۔

آزاد ریسرچ کے مطابق، پروفیسر پالو نوگیرا باٹسٹا جونیئر کی صاف گوئی عالمی دانشوروں میں بھارت کے کردار سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ مودی حکومت کے اقدامات نے نہ صرف برکس کے اندر اختلافات کو ہوا دی ہے، بلکہ عالمی سفارتی میدان میں بھی بھارت کو مشکوک بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کی اسلام دشمنی، مسلمانوں کی مذہبی شناخت پروار،صدیوں پرانے مزارات بلڈوز کر د ئیے گئے

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *