بھارت میں کانگریس پارٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کے دعوؤں پر وزیراعظم نریندر مودی کی مسلسل خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بھارت میں کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ 59 دنوں میں کم از کم 21 مرتبہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان 4 روزہ جنگ کو روکا، جو ان کے مطابق ایک جوہری تصادم میں تبدیل ہونے والی تھی۔
For at least the 21st time in the last 59 days, President Trump has said that he –
1. Stopped the four-day India-Pakistan war in May.
2. The war was about to escalate into a nuclear conflict.
3. India and Pakistan agreed to a cease-fire because the carrot-and-stick of trade… https://t.co/s8lQIEZEgI
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ’تجارتی دباؤ اور مراعات‘ کے ذریعے دونوں ممالک پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا اور واضح پیغام دیا ’ جنگ فوراً روکو، ورنہ امریکی مارکیٹس اور سرمایہ کاری سے ہاتھ دھونا پڑے گا‘۔
امریکی صدر نے یہ دعوے ایک ایسے وقت میں دہرائے ہیں جب وہ بھارت اور پاکستان کے ساتھ ایک مجوزہ تجارتی معاہدے کا بھی اعلان کرنے جا رہے ہیں، جسے انہوں نے اپنی ’سفارتی کامیابی‘ سے جوڑ دیا ہے۔
اس پس منظر میں کانگریس کے ترجمان جئے رام رمیشن نے سخت ردعمل دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ ’وزیراعظم مودی ایک غیر ملکی رہنما کے ایسے سنجیدہ اور بار بار دہرائے جانے والے بیانات پر خاموش کیوں ہیں‘؟۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دعویٰ نہ صرف بھارت کی خودمختاری کو مجروح کرتا ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت نے کسی بیرونی دباؤ پر جنگ بند کی۔
جئے رام رمیش نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ’ بی جے پی کے رہنما گھنشیام تیواری نے نریندر مودی کو پارٹی کا ‘ٹرمپ کارڈ’ کہا تھا تو پھر وہ اس مسئلے پر اب تک خاموش کیوں ہیں‘؟۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ مئی میں بھارت-پاکستان تنازع کے دوران اصل میں کیا ہوا اور کیا واقعی امریکی مداخلت سے جنگ رکی؟
اب تک مودی سرکار نے نہ تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی، جس سے شفافیت اور بھارت کی سفارتی خودمختاری پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں آ رہے ہیں جب بھارت، پاکستان اور امریکا کے درمیان ممکنہ سہ فریقی تجارتی معاہدے کی بات ہو رہی ہے، جو خطے میں اہم اقتصادی اور جغرافیائی اثرات ڈال سکتا ہے۔
بھارت میں اپوزیشن اور عوامی حلقوں کے بڑھتے دباؤ کے پیشِ نظر مبصرین کا خیال ہے کہ وزیراعظم مودی کو جلد یا بدیر اس معاملے پر لب کشائی کرنا پڑے گی۔