برہان وانی کی شہادت کو 9 سال مکمل، مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال، نظام زندگی مفلوج

برہان وانی کی شہادت کو 9 سال مکمل، مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال، نظام زندگی مفلوج

کشمیر کی تحریک آزادی کو نئی روح بخشنے والے نوجوان رہنما برہان مظفر وانی کی شہادت کو آج 9 سال مکمل ہو گئے۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹرڈاؤن کیا گیا، جب کہ وادی میں فضا سوگوار اور سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مودی حکومت کی نئی چال، مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو بدنام کرنے کی سازش

برہان وانی 19 ستمبر 1994 کو ضلع پلوامہ کے گاؤں دداسر میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ذہین طالبعلم تھے اور 8 ویں جماعت سے لے کر ہر جماعت میں 90 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کرتے رہے، ان کا خواب تھا کہ وہ ڈاکٹر بنیں، لیکن قابض بھارتی فوج کے مظالم نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔

سال 2010 میں بھارتی فوجیوں نے انہیں اور ان کے کزن کو صرف اس لیے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے رشوت کے طور پر سگریٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس تشدد اور بعد ازاں پولیس کی ہراسانی سے تنگ آ کر برہان وانی نے محض 16 برس کی عمر میں حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی۔

برہان وانی نے روایتی گوریلا جنگ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کا جرأت مندانہ استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو تحریک آزادی میں شامل ہونے کے لیے متحرک کیا۔ ان کا انداز، ویڈیوز اور پیغامات کشمیری نسل میں جوش و جذبہ پیدا کرتے رہے۔

13 اپریل 2015 کو بھارتی فوج نے ان کے بھائی کو حراست کے دوران بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ اس واقعے نے برہان وانی کو مزید پرعزم بنا دیا۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی، جنگی مہارت اور مقبولیت سے بھارتی فورسز کو بارہا شکست دی۔

مزید پڑھیں:یوم عاشور پر مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں لگانا بھارت کی اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے،خواجہ آصف

برہان وانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر بھارتی حکومت نے اگست 2015 میں ان کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر کر دی۔

بالآخر 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج نے ایک خفیہ کارروائی کے دوران کوکرنگ علاقے میں برہان وانی کو شہید کر دیا۔ ان کی شہادت نے پوری وادی کو ہلا کر رکھ دیا۔ ان کے جنازے میں 2 لاکھ سے زیادہ کشمیریوں نے شرکت کی، جو اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ تھا۔

برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ وادی میں وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہرے اور بدامنی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بھارتی فوج نے احتجاج روکنے کے لیے 53 روزہ کرفیو نافذ کیا، لیکن اس کے باوجود مظاہروں میں شدت آتی گئی، جس دوران 100 سے زیادہ کشمیری نوجوان شہید ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلم دشمن پالیسیوں پر عمل پیر،مذہبی آزادی سلب، ہندو یاترا کو مکمل تحفظ

برہان وانی آج بھی کشمیری نوجوانوں کے دلوں میں ایک ہیرو کی حیثیت سے زندہ ہیں۔ ان کی جرأت، بے باکی اور آزادی کے لیے جدوجہد آنے والی نسلوں کو مزاحمت کا سبق دیتی ہے۔ ان کی قربانی تحریک آزادی کشمیر میں ایک سنہری باب کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *