’ایف اے ٹی ایف‘ نے بھارت کے ڈیجیٹل نظام کو دہشتگردی کی مالی معاونت کا مرکز قرار دیدیا، فوری کارروائی کا مطالبہ

’ایف اے ٹی ایف‘ نے بھارت کے ڈیجیٹل نظام کو دہشتگردی کی مالی معاونت کا مرکز قرار دیدیا، فوری کارروائی کا مطالبہ

دنیا کے سب سے بڑے انسدادِ دہشت گردی مالیاتی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، خصوصاً ای کامرس پلیٹ فارمز اور آن لائن پیمنٹ سسٹمز دہشتگردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی اقدامات غیر منتطقی، ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی ادارے اعتراف کر چکے، پاکستان کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں، بلاول بھٹو

رپورٹ بعنوان ’دہشت گردی کی مالی معاونت کے خطرات پر جامع جائزہ‘ میں پلوامہ حملہ(2019)، گورکھ ناتھ مندر واقعہ (2022) اور پہلگام حملہ (اپریل 2025) جیسے متعدد ہائی پروفائل دہشتگرد حملوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں بھارتی ای-کامرس سسٹمز کے ذریعے مواد اور مالی وسائل حاصل کیے گئے۔

آزاد ریسرچ کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے ایک کیس اسٹڈی میں انکشاف کیا کہ ایک حملے میں استعمال ہونے والا اہم کیمیکل ایلومینیم پاؤڈر ای کامرس پلیٹ فارم ای پی او ایم (ایمزون) کے ذریعے خریدا گیا، جس سے دھماکے کی شدت میں اضافہ ہوا۔

بھارت کی ڈیجیٹل ترقی کے پیچھے چھپی خوفناک حقیقت

آزاد ریسرچ کے مطابق یہ انکشاف صرف ایک تکنیکی یا ریگولیٹری خامی نہیں بلکہ ایک منظم خطرہ ہے۔ ’ایف اے ٹی ایف‘ نے نشاندہی کی کہ بھارت کا ڈیجیٹل نظام جو دنیا بھر میں ترقی، اختراع اور ’ٹیکنالوجی حب‘کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، دراصل ایک ’ڈیجیٹل پردہ ‘ہے، جس کے پیچھے دہشتگرد نیٹ ورکس کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کچھ قومی حکومتیں بھی دہشتگرد تنظیموں کو براہِ راست مالی، مادی اور تربیتی معاونت فراہم کر رہی ہیں اور ان نیٹ ورکس کو چلانے کے لیے بھارت کی ڈیجیٹل سروسز استعمال ہو رہی ہیں۔

آزاد ریسرچ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’بھارت غیر قانونی مالیاتی لین دین، منی لانڈرنگ، اور دہشتگردوں کے مالی رابطوں کا ایک عالمی مرکز بن چکا ہے۔ ایک ایسے ملک کے طور پر جسے خود کو دہشتگردی کا شکار قرار دینے کا شوق ہے، بھارت درحقیقت انہی نیٹ ورکس کو خاموشی سے سہولت فراہم کر رہا ہے‘۔

عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ

خطے کے ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین نے ’ایف اے ٹی ایف‘ کی رپورٹ کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو فوری طور پر ’ایف اے ٹی ایف‘ کی بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے۔

مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے ناقابل تردید ثبوت پیش کر دیے

اگر اب بھی عالمی برادری نے آنکھیں بند رکھیں تو یہ دہشتگردی کے خلاف عالمی جدوجہد سے کھلا دھوکہ ہوگا۔ ’کیو آر کوڈز‘ اور شاپنگ کارٹس کی آڑ میں دہشتگردی کا یہ نیا ڈیجیٹل چہرہ فوری طور پر بے نقاب ہونا چاہیے۔

بھارت کی ڈیجیٹل معیشت اب صرف تجارتی نظام نہیں، بلکہ ایک ’ریموٹ کنٹرول‘ ہتھیار بن چکی ہے، جو سرحد پار دہشتگردی کی نئی راہیں کھول رہی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کی یہ رپورٹ صرف انتباہ نہیں، بلکہ عالمی ضمیر کے لیے ایک چیلنج ہے’ اب فیصلہ دنیا کو کرنا ہے  کہ ’کیا وہ دہشتگردی کو ڈیجیٹل شناخت دے گی یا اسے عالمی انصاف کے ترازو میں تولے گی؟

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *