ویب ڈیسک۔ بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے بھارتی ڈیفنس اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ (DAD) کی کنٹرولرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “امن کا وقت ایک فریب ہے”، جس سے بھارت کی مستقبل کی پالیسیوں میں جارحیت اور بدنیتی کا واضح اشارہ ملتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب بھارتی حکومت نے 7 مئی کو پاکستان پر بلااشتعال حملہ کرکے پہلے سے غیر مستحکم خطے میں مزید تناؤ پیدا کر دیا۔ مودی کی انتہاپسند دائیں بازو کی حکومت نے نہ صرف خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا بلکہ واقعے کے بعد بھی عاجزی اختیار کرنے کے بجائے اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا۔
پاکستان نے حملے کے بعد ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا، لیکن مضبوط حکمت عملی کے ساتھ صرف بھارتی فوجی اہداف پر موثر جوابی کارروائی کی۔ اس دوران پاکستان نے بھارت کے 6 طیارے مار گرائے، جن میں 3 رافیل جنگی طیارے بھی شامل تھے۔ تاہم، بھارت ان نقصانات کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت “آپریشن سندور” کو کامیاب قرار دے رہی ہے، جبکہ پاکستان کی جوابی کارروائی میں ہونے والے بڑے نقصان کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی قیادت، خصوصاً نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ، نے متعدد مواقع پر انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے جو خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ان بیانات میں بارہا کہا گیا ہے کہ “آپریشن سندور مکمل نہیں ہوا بلکہ صرف روک دیا گیا ہے”۔
اسی تسلسل میں بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے بھی واضح کیا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ بھارت کو کسی بھی غیر یقینی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا کیونکہ امن کا وقت محض ایک فریب ہے۔ ان کا یہ بیان واضح کرتا ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنے کے ارادے رکھتی ہے۔
راج ناتھ سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاک-بھارت جنگ کے بعد بھارت میں تیار ہونے والے ہتھیاروں کی طلب میں مبینہ اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 6 مئی کو ہونے والے تصادم کے بعد، جس میں بھارت کا ایک رافیل طیارہ تباہ ہوا، فرانسیسی کمپنی “ڈاسو ایوی ایشن” (Dassault Aviation) کے شیئرز کئی دنوں تک نیچے گر گئے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنے اسلحہ ذخیرے میں اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو جنوبی ایشیا کو ایک نئی ہتھیاروں کی دوڑ میں دھکیل سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔