ایران امریکا ممکنہ معاہدہ: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

ایران امریکا ممکنہ معاہدہ: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی

وفاق کی جانب سے پیش کیے گئے نئے فنانس بل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے دور رس اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔

فنانس بل کے تحت ملک میں ایک ‘نیشنل فیس لیس سینٹر’ قائم کرنے کی منظوری مانگی گئی ہے، جس کے ذریعے ٹیکس معاملات سنبھالنے والے افسران کی شناخت کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے گا۔ اس نئے نظام کا مقصد ٹیکس گزاروں اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست رابطے کو ختم کرنا ہے۔

کیسز کی خودکار تقسیم، انسانی مداخلت ختم

فنانس بل میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق اب ٹیکس دہندگان کے کیسز کسی انسانی مداخلت کے بغیر ایک خودکار (آٹومیٹڈ) نظام کے تحت افسران کو تفویض کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر کا 60 فیصد گاڑیاں پارک کرنے اور 50 فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم دینے کا فیصلہ

ایف بی آر نے ‘فیس لیس آڈٹ اور اسسمنٹ سسٹم’ متعارف کرانے کی تجویز دی ہے، جس سے ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ کے درمیان براہِ راست میل جول میں واضح کمی آئے گی اور تمام تر کارروائیاں الیکٹرانک ذرائع سے انجام دی جائیں گی۔

افسران کی شناخت کی بنیاد پر فیصلے چیلنج نہیں ہوں گے

بل میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ فیس لیس سینٹر کے افسران کی جانب سے جاری کردہ احکامات کو محض پبلک یا نجی شناخت کی بنیاد پر عدالت یا متعلقہ فورمز پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ البتہ، کاروبار، اثاثوں اور سرمایہ کاری کی فزیکل ویریفکیشن (موقع پر تصدیق) کا پرانا نظام بدستور برقرار رہے گا۔

ایف بی آر کو ری آڈٹ کے وسیع اختیارات دینے کی تجویز

علاوہ ازیں، فنانس بل میں ایف بی آر کو کاروباری ریکارڈ کا دوبارہ آڈٹ (ری آڈٹ) کرانے کے وسیع اختیارات دینے کی بھی تجویز شامل کی گئی ہے۔

اس مقصد کے لیے اکاؤنٹس کی دوبارہ جانچ سے متعلق ایک نئی شق فنانس بل کا حصہ بنائی جا رہی ہے، جس کے تحت کمشنر کو مخصوص حالات یا حسابات میں بے ضابطگی کے شبہ پر ری آڈٹ کا حکم دینے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔

ری آڈٹ کے لیے چیف کمشنر کی منظوری لازمی

اس قانون کے ذریعے پیچیدہ اور بڑے مالیاتی ریکارڈ کی دوبارہ جانچ ممکن ہو سکے گی، تاہم ری آڈٹ کا حتمی حکم جاری کرنے کے لیے چیف کمشنر کی منظوری لازم ہوگی۔

بل میں یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ کمشنر ری آڈٹ سے قبل رجسٹرڈ شخص یا کمپنی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل اور شفاف موقع فراہم کرے گا۔

اسٹاک کی دوبارہ ویلیوایشن کا نیا طریقہ کار

بل کی ایک اور اہم شق کے مطابق رجسٹرڈ شخص کی انوینٹری (اسٹاک) کی دوبارہ ویلیوایشن (مالیت کا تعین) کرانے کا اختیار بھی تجویز کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:ایف بی آر کا ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن مانیٹرنگ کا فیصلہ

فنانس بل کے تحت اب رجسٹرڈ شخص کو ایک سرٹیفائیڈ کاسٹ اکاؤنٹنٹ سے اپنے اسٹاک کی نئی مالیت کا تعین کرانا ہوگا، اور یہ ری آڈٹ صرف اسی اکاؤنٹنٹ سے کرایا جا سکے گا جس کا نام ایف بی آر کے پینل میں نامزد ہوگا۔

کاروباری معلومات طلب کرنے کے اختیارات میں اضافہ

اس عمل کے دوران کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ رجسٹرڈ شخص سے کاروبار اور اسٹاک سے متعلق مخصوص سوالات کے تحریری جوابات طلب کر سکے۔

Related Articles