فرانس کی طیارہ ساز کمپنی داسو ایوی ایشن نے میڈیا کی ان خبروں کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کے سی ای او ایرک ٹراپیر نے بھارتی آپریشن سندور کے دوران رافیل طیاروں کے استعمال پر تبصرہ کیاتھا۔
آزاد ریسرچ کے مطابق ایک بار پھر، بھارتی میڈیا آپریشن سندور کی شرمناک ناکامی کو چھپانے کے لیے غلط معلومات پھیلاتے بے نقاب ہوگیا۔
داسو کی تردید نے بھارتی میڈیا کی رافیل طیاروں کے بارے میں غلط معلومات کی مہم کا پردہ فاش کردیا ، کمپنی نے اس بات کا واضح طور پر انکار کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ رافیل معاہدے میں کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر شفافیت کا عنصر موجود تھا۔
گزشتہ روز جاری ایک رسمی بیان میں کمپنی نے وضاحت کی کہ داسو ایوی ایشن کے چیئرمین اور سی ای او ایریک ٹراپیر سے متعلق کچھ صحافتی رپورٹس کا جواب دیتے ہوئے داسو ایوی ایشن واضح طور پر تردید کرتی ہے کہ ایریک ٹراپیر نے سندور آپریشن میں رافیل کے استعمال کے حوالے سے کسی بھی آپریشنل یا تکنیکی تبصرے کیے ہیں۔”
اس بیان نے ان رپورٹوں کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے جو فرانس سے آنیوالی تھیں اور جن میں کہا گیا تھا کہ ٹراپیر نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے دوران کوئی رافیل طیارہ نہیں گرایا گیا، تاہم بھارتی فضائیہ نے ایک طیارہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے کھو دیا، اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
آزاد فیکٹ چیک کے مطابق بھی ایسا کوئی ریکارڈ یا سرکاری حوالہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کرے کہ ٹریپئیر نے آپریشن سندور میں رافیل طیاروں کے کردار یا کارکردگی کے بارے میں کوئی بیان دیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں :فرانسیسی کمپنی داسو ایوی ایشن نے رافیل سے متعلق بھارتی دعویٰ اور سی ای او سے منسوب بیان کی تردید کر دی
تاہم آزاد فیکٹ چیک نے ان دعوؤں کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے اور یہ واضح ہے کہ یہ محض ایک اور منظم بے بنیاد گمراہ کن مہم ہے ، بھارت کی حکومتی مشینری نے آپریشن سندور کے متعلق سچائی کو چھپانے کی کوشش کی ہے، یہ اس صورتحال کا اظہار ہے ۔
Azaad Fact Check has exposed misinformation and fake news spread by an India-based X handle, which falsely quoted the CEO of Dassault Aviation claiming no losses on the Indian side during Operation Sindoor. Dassault Aviation, in its official press release, has clarified that its… https://t.co/ifGvvKNd7N pic.twitter.com/bZqw7DtTwo
— Azaad Fact Check (@azaadfactcheck) July 8, 2025

