بھارت کا جنگی جنون سر چڑھ کر بولنے لگا، نئے راکٹ سسٹم ’پناکا۔4 کی تیاری شروع کردی

بھارت کا جنگی جنون سر چڑھ کر بولنے لگا، نئے راکٹ سسٹم ’پناکا۔4 کی تیاری شروع کردی

بھارت کی جانب سے میزائل سسٹم اور توپ خانے کے نظام کو تیزی سے جدید اور بہتر بنانے کی پالیسی پاکستان، چین سمیت عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، بھارت نے جدید ترین میزائل سسٹم پناکا۔4 پر کام شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نریندر مودی کی جارحانہ پالیسیاں، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری داؤ پر لگ گئی

بھارتی میڈیا کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت کے ادارہ برائے تحقیق و ترقی برائے دفاع (ڈی آر ڈی اُو) نے جدید ترین دفاعی راکٹ سسٹم پناکا۔4 پر کام شروع کر دیا ہے، جو 300 کلومیٹر تک کے اہداف کو نہایت درستی سے نشانہ بنانے اور دشمن کی فضائی دفاعی نظام سے بچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ راکٹ سسٹم صرف اسلحے میں اضافہ نہیں بلکہ بھارت کی مسلسل جارحانہ دفاعی پالیسی کا مظہر بھی ہے جو خطے میں امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ پناکا۔4، جسے تاکتیکی میزائل سسٹمز ’پریلے  ‘سے متاثر ہو کر تیار کیا جا رہا ہے، 250 کلوگرام تک کا دھماکا خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھے گا اور 10 میٹر سے بھی کم فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنا سکے گا۔

بھارت کے جارحانہ رویے کی تاریخ

پناکا راکٹ سسٹم کو بھارت نے کارگل جنگ کے بعد اپنی فوج میں شامل کیا تھا۔ ابتدائی ورژن پناکا  ’ایم کے۔1 کی رینج 40 کلومیٹر تھی، جو اب بڑھتے بڑھتے ’ایم کے۔3 ‘ میں 120 کلومیٹر تک جا پہنچی۔ مجوزہ پناکا ۔4 سسٹم اپنی نوعیت میں ایک بڑی تبدیلی ہو گی، جو اس کی رینج کو 8 گنا بڑھا دے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ اس میزائل پروگرام کی ترقی صرف ایک پہلو ہے بھارت کی مسلح افواج کے جارحانہ نظریے اور رویے یہاں تک جا پہنچا ہے کہ بھارت نے حال ہی میں امریکا سے ایم ۔777 ہاؤٹزر توپوں کا بڑا آرڈر دیا ہے، حالانکہ ہزاروں پرانے بوفرز توپیں اب بھی فوج میں استعمال ہو رہی ہیں، جو بھارت کے توپ خانے پر حد سے زیادہ انحصار کو ظاہر کرتی ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان کے خلاف پھر جارحیت کے آثار: آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد تینوں بھارتی مسلح افواج کا مشترکہ کارروائی کا منصوبہ

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے ٹینک، فضائی دفاعی نظام اور بحری جنگی صلاحیتیں جدید دور کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں، مگر بھارت مسلسل زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کی ترقی پر زور دے رہا ہے، جو اس کے جارحانہ عزائم کی غمازی کرتا ہے۔

بیلسٹک میزائل پروگرام میں تیزی

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل سسٹمز پر بھی بھرپور توجہ دے رہا ہے۔ اگنی-VI میزائل، جو 3,500 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، آخری مراحل میں ہے اور جلد فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اسی طرح قلیل فاصلے کے بیلسٹک میزائل جیسے پریلے بھی جلد فوج میں شامل کیے جا رہے ہیں، جو پرانے میزائلوں کی جگہ لیں گے۔ یہ سب اقدامات مجموعی طور پر بھارت کی ایک ایسی جارحانہ دفاعی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جو محض دفاع تک محدود نہیں بلکہ خطے پر اثر انداز اور خود کو ایک طاقت کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔

خطے اور دنیا پرمنفی اثرات

بھارت کی اس جارحانہ پیش قدمی کو نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ دُنیا بھر میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ فوجی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کی پالیسی جنوبی ایشیا میں ایک نئے اسلحہ کی دوڑ شروع کر سکتی ہیں۔ بھارت کے اس رویے کے باعث پاکستان اور چین پہلے ہی اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں طاقت کا توازن مزید غیر مستحکم ہو رہا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے ان اقدامات کو عالمی سطح پر نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ سرگرمیاں عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ بھارت کی قیادت کی ترجیح، دور مار کرنے والے، انتہائی جدید ہتھیاروں پر مرکوز ہے، نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی جغرافیائی کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔

جبکہ پناکا۔4  کے تجربات 2028 میں متوقع ہیں، دنیا کی نظریں بھارت پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ اقدامات دفاعی تیاری کا حصہ ہیں یا جارحیت کی جانب ایک قدم، یہ وقت ہی بتائے گا۔ مگر ایک بات طے ہے کہ جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ تیز ہو چکی ہے اور اس کی قیادت بھارت کر رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *