وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتوں کی کارکردگی میں بہتری کیلئے ہر شعبے کے ماہرین کی خدمات لینے کی ہدایت جاری کی۔وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے گورننس میں بہتری اور اصلاحات کے سلسلے میں ماہرین پر مشتمل نظام کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو گزشتہ 70 سال سے جس نظام کے تحت چلانے کی کوشش کی گئی، وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرسودہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال یہاں کی نوجوان نسل سب سے قیمتی سرمایہ ہے جو دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح فرسودہ نظام کو جدید، ڈیجیٹل اور مؤثر گورننس ماڈل میں تبدیل کرنا ہے، انہوں نے اویس لغاری اور ان کی ٹیم کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارت توانائی کی جانب سے کی گئی اصلاحات، نقصانات میں کمی اور قومی خزانے کی اربوں روپے کی بچت باقی وزارتوں کے لیے مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر اصلاحات اور جدید گورننس کے لیے بین الاقوامی سطح پر شہرت یافتہ ماہرین کی معاونت ناگزیر ہے، متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور کنسلٹنٹس موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق نئی سوچ اور جدید طریقہ کار اپنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
وزیراعظم نے اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کی بھرتی، وزارتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اصلاحات کے ذریعے گورننس میں بہتری کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کی ہدایت بھی کی، جو وزارت توانائی کی اصلاحات کو بنیاد بناتے ہوئے دیگر وزارتوں اور اداروں کی تنظیم نو کے لیے قابل عمل تجاویز تیار کرے گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نیشنل الیکٹرسٹی پلان کے تحت وزارت میں 134 اسٹریٹجک ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا ہے، اجلاس کو ماہرین کی پروفائلز اور نئے نظام کے تحت وزارت کی موجودہ کارکردگی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سردار اویس لغاری، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، چیف کوآرڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔