ملک میں چینی کی قیمت 200 روپے کلو تک پہنچ گئی

ملک میں چینی کی قیمت 200 روپے کلو تک پہنچ گئی

مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے بری خبر، ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمت 200 روپے فی کلوتک پہنچ گئی۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی فی کلو قیمت ریکارڈ 200 روپے کی سطح پر پہنچ گئی، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں چینی 200 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے ، جڑواں شہروں میں چینی کی فی کلو اوسطاً قیمت 196 روپے سے زائد ہے۔

کراچی میں بھی چینی کی فی کلو قیمت نے ڈبل سینچری مکمل کرلی، کراچی میں فی کلو چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 200 روپے ہے، کراچی میں چینی کی اوسطاً فی کلو قیمت 192 روپے 54 پیسے ہے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ میں چینی کی فی کلو قیمت 195 روپے ہے، سیالکوٹ میں صارفین کے لیے چینی فی کلو 192 روپے میں دستیاب ہے، لاہور میں بھی فی کلو چینی 192 روپے میں دستیاب ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ کیلیے آئی ایم ایف کی سخت تجاویز, عوام کے لیے مہنگائی کا ممکنہ طوفان تیار

اس کے علاوہ ملتان، بہاولپور، سکھر اور پشاور میں چینی 190 روپے فی کلو میں فروخت ہورہی ہے جبکہ بنوں، کوئٹہ اور خضدار میں فی کلو چینی قیمت 185 سے 190 روپے میں دستیاب ہے۔

ملک میں چینی کی اوسط قیمت بڑھ کر 188 روپے 44 پیسے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، ملک میں زیادہ سے زیادہ سے چینی کی فی کلو قیمت 200 روپے ہے۔

دوسری جانب گزشتہ روزوفاقی حکومت نے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی درآمد کا باضابطہ عمل شروع کرتے ہوئے پہلاٹینڈر جاری کردیاتھااورچینی کی درآمد کے لیےانٹرنیشنل سپلائرز/مینوفیکچررز سے 18 جولائی تک لفافہ بند بولیاں طلب کی گئی ہیں۔

ٹینڈر دستاویز کے مطابق چینی کی درآمد کے لیے 25 ہزار ٹن سےکم کی بولی منظور نہیں کی جائے گی۔

 یہ بھی پڑھیں: 200 یونٹ تک 5000 روپے بل اور 201 یونٹ ہوتے ہی بل 15 ہزار کیوں؟ سوالات کھڑے ہوگئے

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی درآمد سرکاری سطح پر ٹی سی پی کے ذریعے کی جارہی ہے اوروفاقی حکومت نےچینی کی درآمد پر تمام ٹیکسز سے استثنیٰ دیا ہے، حکومت کا فیصلہ ہے کہ درآمدشدہ چینی موٹے دانے اور اعلیٰ معیار کی ہوگی، اس کے علاوہ وفاقی حکومت نےچینی کی شپمنٹ کے بعد معائنہ بھی لازمی قرار دیا ہے۔

 واضح رہے کہ چینی کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے وفاقی کابینہ نےگزشتہ ہفتے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *