اقوامِ متحدہ کے اس کمیشن کے تمام 3 اراکین مستعفی ہو گئے ہیں جو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان کے مطابق، اراکین کے مستعفی ہونے کے بعد کمیشن کی از سر نو تشکیل کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ کمیشن 2021 میں قائم کیا گیا تھا اور اسے اسرائیل کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جس کا مؤقف ہے کہ کمیشن کا رویہ جانبدار ہے۔ اس کے باوجود، کمیشن دونوں فریقین کی جانب سے مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دستاویزات تیار کرتا رہا ہے۔
جنوبی افریقہ کی ناوی پیلائے، جن کی عمر 83 سال ہے اور جو ماضی میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر اور روانڈا ٹربیونل کی سربراہ رہ چکی ہیں، نے اپنی عمر کو استعفیٰ کی وجہ قرار دیا۔
آسٹریلیا کے انسانی حقوق کے ماہر کرس سڈوٹی جن کی عمر 74 برس ہے، نے کہا کہ ’یہ کمیشن کی از سر نو تشکیل کے لیے مناسب وقت ہے‘۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے میلون کوٹھاری، جو اپنی 60 کی دہائی کے آخر میں ہیں، نے مختصراً کہا کہ ’یہ میرے لیے اعزاز کی بات تھی‘۔