وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر پیٹرول اور گیس کے استعمال میں کم از کم 50 فیصد کمی لائیں، بصورت دیگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست عوام تک منتقل ہوں گے۔
نماز عید کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تاہم سیاسی اور عسکری قیادت ان مشکلات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے اور ملک کو درپیش خطرات پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔
توانائی بحران کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم کفایت شعاری اپنائے۔ ان کے مطابق اگر عوام نے رضاکارانہ طور پر استعمال کم نہ کیا تو حکومت کے لیے قیمتوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
افغانستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ کسی پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی افغانستان کے کسی حصے پر قبضے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم پاکستان کا واضح مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان اس حوالے سے ٹھوس یقین دہانی کروا دے تو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن غضب اللحق دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے شروع کیا گیا ہے، اور اگر دوبارہ ایسی سرگرمیاں سامنے آئیں تو ان پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:خطہ توانائی بحران کی لپیٹ میں، وزیر پیٹرولیم کا پاکستان میں پیٹرول مزید مہنگا کرنے کا عندیہ
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی واضح مذمت کی ہے اور مسلم ممالک پر حملوں کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت اہم علاقائی ممالک کا اعتماد حاصل ہے اور پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔
سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مقدمات حکومت نے نہیں بلکہ عدالتوں نے بنائے اور فیصلے بھی عدالتی نظام کے تحت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات ملک کے دفاعی اداروں کے خلاف ایک سازش تھے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی قانون کے مطابق کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام احتجاج کی کال دینے والوں کو مسترد کر رہے ہیں اور حکومت کی سیاسی رواداری اور جمہوری عمل کو جاری رکھنے کی پالیسی کو پذیرائی مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم کسی قسم کی “ڈیل” کی گنجائش موجود نہیں ہے۔
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جلد کرائے جائیں گے، جس کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور حکومت اس حوالے سے جلد شیڈول جاری کرے گی۔

