مون سون بارشوں کا قہر جاری، مختلف حادثات میں 252 افراد جاں بحق

مون سون بارشوں کا قہر جاری، مختلف حادثات میں 252 افراد جاں بحق

ملک  میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں جاں بحق افراد کی تعداد 252 ہو گئی ہے، جبکہ 600 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق جاں بحق افراد میں 121 بچے، 85 مرد اور 46 خواتین شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بارشوں اور حادثات کے باعث مزید 10 افراد جاں بحق  اور 13 زخمی ہوئے ہیں،  پنجاب میں سب سے زیادہ جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے جہاں اب تک 139 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں 60، سندھ میں 24، بلوچستان میں 16، اسلام آباد میں 6 اور آزاد کشمیر میں 2 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے 23 جولائی 2025 کے دوران بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر 1005 مکانات کو نقصان پہنچا، 328 مویشی ہلاک ہوئے، اور 12 پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز

وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں پھنسے سیاحوں اور مقامی افراد کے لیے ریسکیو آپریشنز میں تیزی لانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے شاہراہ قراقرم، ناران، بابوسر اور چلاس کی سڑکوں کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 25 جولائی تک ملک میں بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور گلوف ایونٹس کا خدشہ، این ڈی ایم اے

 ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے اور دیگر ادارے آئندہ متوقع مون سون اسپیلز کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں۔

وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کو خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طبی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سی ون تھرٹی طیارہ سیاحوں کو اسلام آباد منتقل کرے گا۔

مزید بارشوں کی پیشگوئی، عوام کو احتیاط کی ہدایت

محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا سلسلہ جمعرات کی رات بھی جاری رہنے کا امکان ہے،  کشمیر، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور شمال مشرقی بلوچستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ادھر  پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں آج صبح  موسلادھار بارش سے گرمی اور حبس کی شدت میں کمی ہوگئی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں وقفے وقفے سے بارش ہوئی، نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ تک بلند ہوگئی، راول ڈیم میں پانی کی سطح 1 ہزار 749 فٹ ہونے پر سپل ویز کھول دیئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مزید موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی

بالائی علاقوں میں گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (جی ایل او ایف) اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات بھی موجود ہیں۔

غیر ملکی سیاحوں سمیت ہزاروں افراد گلگت بلتستان (جی بی) کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش، خصوصاً قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پھنسے ہوئے ہیں، کئی مقامات پر فائبر آپٹک کیبل کو نقصان پہنچنے سے پورے علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہو گئی ہیں۔

مزید برآں، دریا کے کٹاؤ کے باعث شگر میں واقع ہوٹو معلق پل گر گیا، جس سے کے ٹو بیس کیمپ کا واحد راستہ منقطع ہو گیا، بڑی تعداد میں غیر ملکی کوہ پیما اور سیاح پھنس گئے، جب کہ 8 دیہات کا زمینی رابطہ بھی ختم ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں شدید بارشیں، وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر رین ایمرجنسی نافذ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حکام کے مطابق گلگت سے اسلام آباد کے لیے سی 130 پرواز کا بندوبست کیا جا رہا ہے تاکہ پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالا جا سکے۔

این ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ندی نالوں، زیرآب سڑکوں اور پلوں سے گزرنے سے گریز کریں اور مقامی حکام کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *