وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہونے والی تمام گاڑیوں پر ایم ٹیگ لگانا لازمی قرار دے دیا گیا جس کے بغیر کسی گاڑی کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل پارکنگ کا نفاذ اور پارکنگ میٹرز لگائے جائیں گے۔
چیئرمین سی ڈی اے کاکہناہے کہ اسلام آباد میں روزانہ آنے اور جانے والی گاڑیوں کا سروے کیا جائے گا ، رش والی جگہوں پر پارکنگ کے چارجز زیادہ ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ سسٹم کا آغاز کیا جا چکا ہے، موبائل ایپ یا آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرایا جائے گا، شہری موبائل ایپ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے پارکنگ فیس ادا کر سکیں گے۔
ایم ٹیگ کیا ہے؟
ایم ٹیگ موٹروے کی جانب سے گاڑیوں کے لیے ایک سٹیکر ہے جو زیادہ تر وینڈ سکرین پر لگایا جاتا جس پر اپنا ایک بار کوڈ موجود ہوتا ہے۔
سٹیکر پر موجود بار کوڈ موٹروے کے پیمنٹ نظام کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور جب بھی ایم ٹیگ والی گاڑی ٹول پلازہ سے نکلتی ہے تو ٹول پلازے پر موجود بیریئر خود کار طریقے سے کھول جاتے ہیں اور ایم ٹیگ اکاؤنٹ سے ٹول ٹیکس کٹوتی ہو جاتی ہے۔
اس کے مقابلے میں بغیر ایم ٹیگ گاڑیاں روایتی طریقے سے ٹول پلازے پر کیش دے کر ٹول ٹیکس ادا کرتی ہیں اور ادائیگی کے بعد ٹول پلازے کا بیریئر گاڑی کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔
ایم ٹیگ کو ریچارج کیسے کیا جاتا ہے؟
موٹروے کے تمام تر ایم ٹیگ کا نظام ون نیٹ ورک نامی ادارے کے پاس ہے اور ٹول پلازوں پر اس ادارے کے مختلف دفاتر بنائے گئے ہیں۔
موٹروے عہدیدار کے مطابق گاڑی مالک گاڑی کے رجسٹریشن کارڈ، شناختی کارڈ کی کاپی اور موبائل نمبر فراہم کر کے ایم ٹیگ سٹیکر حاصل کر سکتا ہے۔