عوام بنیادی سہولیات سے محروم، مودی نے 350 کروڑ بھارتی روپے غیرملکی “شوبازی ” پر لُٹا دیے

عوام بنیادی سہولیات سے محروم، مودی نے 350 کروڑ بھارتی روپے غیرملکی “شوبازی ” پر لُٹا دیے

ویب ڈیسک:بھارتی وزارت خارجہ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 2021 کے بعد سے اپنی بیرونِ ملک دوروں پر عوام کے محنت سے کمائے گئے ٹیکسوں سے ₹350 کروڑ روپے ( تقریبا 1,260 کروڑ پاکستانی روپے) اڑا دیے۔ یہ انکشاف ملک کے اُن کروڑوں افراد کے لیے ایک تلخ حقیقت ہے جو غربت، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔

ملک میں کسان خودکشیاں کر رہے ہیں، نوجوان بیروزگار پھر رہے ہیں، اور کروڑوں افراد آج بھی بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہو کر کھلے میں رفع حاجت پر مجبور ہیں۔ اس دوران وزیر اعظم دنیا بھر میں گھوم کر نمائشی ایوارڈز اور فوٹو سیشنز کا لطف اٹھا رہے ہیں۔

آزاد ریسرچ کے مطابق پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اس سفارتی تماشے کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے بے معنی قرار دیا، جبکہ کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسا وزیر اعظم ہے جس کے پاس 42 غیر ملکی دارالحکومتوں کا وقت ہے، مگر اندرونِ ملک بحران سے دوچار منی پورکے لیے ایک دورہ بھی نہیں۔

اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی وہ پیشگویاں آج درست ثابت ہو رہی ہیں کہ مودی کے یہ بیرونِ ملک دورے محض دکھاوا ہیں، جن کا بھارت کے لیے کوئی عملی فائدہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نفسیاتی مسائل اور ناقص اسلحہ، سابق فضائیہ افسر نے بھارتی ایئر ڈیفنس کا پول کھول دیا

نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اتنے بھاری اخراجات کے باوجود بھارت آج سفارتی طور پر پہلے سے زیادہ تنہا ہو چکا ہے۔ بڑے عالمی مسائل پر کوئی بڑی طاقت بھارت کی حمایت میں کھل کر سامنے نہیں آ رہی۔ قریبی ہمسائے یا تو دشمنی میں ہیں یا بے تعلق، جبکہ گلوبل ساؤتھ بھی دور ہوتا جا رہا ہے۔ پرانے اتحادی اپنے تعلقات پر نظرثانی کر رہے ہیں۔

یہ حقیقت تسلیم کی جانی چاہیے کہ یہ سب “وینیٹی ٹورازم” یعنی نمائشی سیر و تفریح ہے، جو قومی خزانے پر بوجھ بن چکی ہے۔
₹350 کروڑمیں ہزاروں بیت الخلا تعمیر کیے جا سکتے تھے، غلاظت سے بھرے اضلاع صاف کیے جا سکتے تھے، یا لاکھوں افراد کو صاف پانی مہیا کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ دولت فائیو اسٹار ہوٹلوں، ذاتی کارواں، اور خود ستائشی مہمات پر ضائع کر دی گئی۔

ریسرچ کے مطابق ایک ایسا وزیر اعظم جو اپنے عوام کو عزت، تحفظ اور خوشحالی نہ دے سکے، اسے یہ اخلاقی حق نہیں کہ وہ اُن کے پیسوں پر غیر ضروری شہرت کے خواب سجائے۔
مودی کی خارجہ پالیسی اسٹریٹیجک نہیں بلکہ ذاتی تشہیری مہم ہے اور اس کا خرچ بھارت کا غریب عوام اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر نے سیز فائر کے دعوؤں کی سلور جوبلی بنا لی، مودی سرکار تا حال خاموش کیوں؟، جے رام رمیش برس پڑے

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *