امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود بھارت نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی حکومت کے سینیئر ذرائع نے معاملہ کی حساس نوعیت کے باعث برطانوی خبر رساں ایجنسی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ مودی انتظامیہ نے امریکی دھمکیوں کے باوجود روس سے تیل کی خریداری کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ جو اس سال دوسری مدت کے لیے صدر بنے ہیں، نے ان ممالک پر دباؤ بڑھا دیا ہے جو روس سے تیل اور اسلحہ خریدتے ہیں۔ امریکی صدر نے نہ صرف بھارت کی برآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے بلکہ اگر بھارت نے روس سے تیل کی خریداری بند نہ کی مزید پابندیوں کی بھی دھمکی دی ہے۔
تاہم برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ پالیسی میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ یہ طویل المدتی تیل کے معاہدے ہیں۔ خریداری اچانک بند کرنا آسان نہیں ہوگا۔ دوسرے اہلکار نے وضاحت کی کہ روسی تیل کی بھارتی درآمدات نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دی ہے، حالانکہ مغربی ممالک روسی تیل پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں۔
اگرچہ ایرانی اور وینزویلا کے تیل کی طرح روسی تیل پر براہ راست پابندیاں نہیں ہیں، بھارت مبینہ طور پر اسے یورپی یونین کی قیمت کی حد سے کم قیمت پر خرید رہا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی خبر پر وضاحت کی درخواست کا باضابطہ جواب نہیں دیا، تاہم وزارت کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک حالیہ پریس بریفنگ میں کہا کہ بھارت اور روس کے درمیان ’مستحکم اور آزمودہ شراکت داری‘ ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضروریات عالمی حالات اور دستیاب مواقع کے مطابق پوری کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کا خوف، بھارت کی تیل صاف کرنے والی سرکاری کمپنیوں نے روسی خام تیل کی خریداری روک دی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنا اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیح قرار دے چکے ہیں، نے خبردار کیا ہے کہ وہ ان ممالک سے 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جو روسی تیل خریدتے رہیں گے، جب تک روس یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ نہیں کرتا۔
روس اس وقت بھارت کو سب سے زیادہ تیل فراہم کرنے والا ملک ہے، جو دنیا کا تیسرا بڑا تیل درآمد کنندہ اور صارف ہے۔ جنوری سے جون 2025 تک بھارت نے یومیہ اوسطاً 1.75 ملین بیرل روسی تیل درآمد کیا، جو پچھلے سال سے 1 فیصد زیادہ ہے۔
اگرچہ حکومت نے مؤقف میں نرمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا، مارکیٹ کے اشارے قلیل مدتی کمی ظاہر کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے ذرائع کے مطابق بھارتی ریاستی کمپنیوں جیسے انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پیٹرولیم، ہندوستان پیٹرولیم اور منگلور ریفائنری نے حالیہ دنوں میں روسی تیل کی خریداری نہیں کی، کیونکہ رعایتیں کم ہو گئی ہیں اور روسی سپلائی محدود ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، نایارا انرجی، جس کی اکثریتی ملکیت روسی کمپنی روسنیفٹ کے پاس ہے، اب بھی روسی تیل کی بڑی خریدار ہے، تاہم حال ہی میں اسے یورپی یونین کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔