امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ملکی چِپس پر 100 فیصد ٹیرف کی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر ملکی چِپس پر 100 فیصد ٹیرف کی تجویز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ممالک سے درآمد کی جانے والی سیمی کنڈکٹر چِپس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو امریکا میں پیداوار نہیں کرتے یا اس کی پابندی نہیں کرتے کہ وہ مستقبل میں یہاں اپنی پیداوار کریں گے۔ یہ اقدام عالمی چِپ انڈسٹری کو بڑی حد تک متاثر کر سکتا ہے اور خاص طور پر چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدیدمندی

بدھ کو اوول آفس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس مجوزہ ٹیرف کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قدم اور امریکی صنعتی خود کفالت کی سمت ایک جرات مندانہ قدم قرار دیا۔

’قانون بہت سادہ ہے، ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر آپ امریکا میں پیداوار نہیں کرتے یا یہاں فیکٹری لگانے کا وعدہ نہیں کرتے، تو آپ کی چِپس پر بھاری ٹیکس لگے گا‘۔

اگرچہ ٹرمپ نے ٹیرف کے نفاذ کی تاریخ یا متاثرہ ممالک کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم پالیسی کا ہدف زیادہ تر چینی چِپ ساز کمپنیاں ہیں، جیسے کہ ’ایس ایم آئی سی‘ اور ہوائے، جو زیادہ تر سیمی کنڈکٹرز چین میں تیار اور اسمبل کرتی ہیں۔

دوسری جانب وہ کمپنیاں جو امریکا میں پہلے ہی پیداوار کر رہی ہیں، جیسے کہ دنیا کی سب سے بڑی چِپ ساز کمپنی ’ ٹی ایس ایم سی‘ تائیوان، اس نئے ٹیرف سے بچ جائیں گی۔ ’ٹی ایس ایم سی‘امریکا میں جیسے بڑے کلائنٹس کے لیے چِپس تیار کرتی ہے، اور نویدیا نے آئندہ 4 سالوں میں امریکا میں سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔

نویدیا نے ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ پالیسی بڑی ٹیک کمپنیوں کو فائدہ دے سکتی ہے جو امریکا میں پیداواری سہولیات بنانے یا منتقل کرنے کی مالی طاقت رکھتی ہیں۔

’جو کمپنیاں امریکا میں فیکٹری بنانے کی سکت رکھتی ہیں، وہ سب سے زیادہ فائدے میں رہیں گی، جن میں’برائن جیکبسن، چیف اکانومسٹ، اننکس ویلتھ منیجمنٹ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکی ٹیرف کے بعد آئی فون 30 سے 40 فیصد مہنگا ہونے کے امکانات

یہ اقدام خاص طور پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور دفاعی ٹیکنالوجی جیسے حساس شعبوں میں غیر ملکی سپلائی پر انحصار ختم کرنے کے ٹرمپ کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے۔

عالمی ردِعمل اور تجارتی معاہدوں پراثرات

ٹرمپ کا چِپس پر یہ ٹیرف اعلان چین کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے درمیان آیا ہے، اور یہ مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم، دیگر بڑے چِپ بنانے والے ممالک  جنوبی کوریا، جاپان اور یورپی یونین پہلے ہی امریکا کے ساتھ بہتر شرائط پر معاہدے کر چکے ہیں۔

یورپی یونین نے تصدیق کی ہے کہ ان کے زیادہ تر چِپ ایکسپورٹس پر 15 فیصد فلیٹ ٹیرف لاگو ہوگا۔ جنوبی کوریا اور جاپان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کے ساتھ کسی بھی بڑے شراکت دار سے زیادہ سخت سلوک نہیں کیا جائے گا، یعنی وہ 100 فیصد ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گے۔

امریکا کی چِپ خود کفالت کی جانب واپسی

ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ تجویز 2022 کے  چپس ایکٹ پر استوار ہے، جس کے تحت 52.7 ارب ڈالر کی سبسڈی امریکی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور تحقیق کے لیے مختص کی گئی تھی۔ اس قانون کے بعد سے دنیا کی پانچ بڑی چِپ کمپنیاں امریکا میں فیکٹریاں قائم کرنے پر آمادہ ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر کا بھارت پر آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید ٹیرف لگانے کا اعلان

امریکی وزارت تجارت کے مطابق امریکا کا عالمی چِپ مینوفیکچرنگ میں حصہ 1990 میں 40 فیصد تھا، جو 2023 میں صرف 12 فیصد رہ گیا، ایک اعداد و شمار جسے ٹرمپ اکثر اپنے اقتصادی منصوبوں کے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اگرچہ عالمی سیمی کنڈکٹر دوڑ تیز ہو چکی ہے، ٹرمپ کا یہ نیا اقدام عالمی سپلائی چین کو نئے سرے سے ترتیب دینے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور یہ سوال ایک بار پھر اٹھے گا کہ ٹیک سیکٹر میں تحفظ پسندی بہتر ہے یا عالمگیریت؟

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *