حکومت کی جانب سے امریکی ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طور پر 250 روپے تک لانے کی کوششیں ناکامی کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہیں، کیونکہ مارکیٹ میں اس حوالے سے خاصی مزاحمت سامنے آ رہی ہے۔
ڈالر اسمگلنگ کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن اور مالیاتی اسٹیک ہولڈرز سے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے باوجود، اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 280 روپے سے اوپر برقرار ہے اور غیر ملکی کرنسیوں کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے۔
23 جولائی کو شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اوپن اور انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں تقریباً 3 روپے کا معمولی اضافہ دیکھا گیا، لیکن اس سے مارکیٹ کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا اور نہ ہی حکومتی اہداف کے قریب کوئی بہتری آ سکی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں حالیہ مشاورت کے دوران حکومت نے بینکوں، کرنسی ڈیلرز اور جیولرز کے ساتھ ملاقات میں ڈالر کو 250 روپے تک لانے کی خواہش کا اظہار دوبارہ کیا۔ تاہم اجلاس میں شریک افراد نے اس ہدف کو ’غیر حقیقی‘ قرار دیا، جب کہ کئی بینکرز کا کہنا تھا کہ موجودہ حقیقی مارکیٹ ریٹ 281 روپے کے قریب ہے۔
کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر، برطانوی پاؤنڈ اور یورو جیسی اہم غیر ملکی کرنسیاں مارکیٹ سے تقریباً غائب ہو چکی ہیں۔ ایک سینیئر ڈیلر کے مطابق’ کچھ کاؤنٹرز پر چند سو ڈالر دستیاب ہو سکتے ہیں، لیکن زیادہ تر ڈیلرز شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں‘۔
یہ صورتحال اس بیان سے مختلف ہے جو فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے دیا، جنہوں نے حالیہ اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کرنسی کی دستیابی کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم، بیشتر ڈیلرز کا ماننا ہے کہ ایک غیر قانونی ’ہنڈی حوالہ‘ مارکیٹ دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے جہاں ڈالر، ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ میں فروخت ہو رہا ہے۔
بدھ کے روز ’ای سی اے پی‘ نے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ 285.15 روپے اور انٹربینک میں 282.87 روپے بتایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی درحقیقت قلت کی وجہ سے نہیں بلکہ سرکاری نرخوں پر مزاحمت کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔
ایک سینیئرانٹربینک تجزیہ کار نے کہا کہ یہ اصل میں قلت نہیں، بلکہ حکومتی کنٹرولڈ ریٹس کی مزاحمت ہے جو قلت کا تاثر پیدا کر رہی ہے‘۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انٹربینک مارکیٹ کے ڈیلر عاطف احمد کا کہنا ہے کہ وہ بینک جو اسٹیٹ بینک کی اجازت سے امپورٹرز کو ڈالر فروخت کرتے ہیں، وہ اپنے مخصوص کلائنٹس کو ترجیح دے رہے ہیں اور ایسے ریٹس دے رہے ہیں جو خریداروں کو قبول ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’آج کل 5 لاکھ ڈالر کا لیٹر آف کریڈٹ کھولنا بھی امپورٹرز کے لیے ایک مشکل کام بن گیا ہے‘۔
اگرچہ مالی سال 2025 میں درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں قدرے آسان امپورٹ پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ زرِ مبادلہ کی صورتِ حال میں 250 روپے کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گا۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ روپیہ وقتی طور پر 270 کے قریب آ سکتا ہے، لیکن مسلسل مضبوطی ممکن نہیں۔
ایک سینیئر بینکر نے کہا کہ ’معیشت اس وقت ایک مضبوط روپے کو سہارا نہیں دے سکتی۔ ہم اب بھی امریکی ڈالر کی عالمی کارکردگی پر انحصار کرتے ہیں اور اگرچہ 2025 میں ڈالر قدرے کمزور ہوا ہے، لیکن یہ کمی اتنی نہیں کہ روپے کو 250 تک لے آئے‘۔
موجودہ دباؤ اور بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کے درمیان، حکومت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے، یا تو زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے اہداف میں رد و بدل کرے، یا پھر غیر حقیقی ہدف پر اصرار کر کے مزید عدم استحکام کا خطرہ مول لے۔