طبی موت یا قتل، مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ پر کڑی تنقید کرنے والے ستیہ پال کی پراسرار موت معمہ بن گئی

طبی موت یا قتل، مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ پر کڑی تنقید کرنے والے ستیہ پال کی پراسرار موت معمہ بن گئی

مقبوضہ کشمیر کے سابق گورنر اور بھارتی سیاست کے بے باک نقاد ستیہ پال ملک کی پراسرار موت نے سیاسی و عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بی جے پی کا مذہب کے نام پر سیاسی کھیل بے نقاب

اُن کی وفات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب وہ مسلسل نریندر مودی حکومت کو پلوامہ حملے اور کرپشن جیسے حساس معاملات پر تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

ستیہ پال ملک مقبوضہ کشمیر کے وہ واحد سابق ریاستی گورنر تھے جنہوں نے سرعام اس بات کا اعتراف کیا کہ پلواما حملے میں بھارتی حکومت کی کوتاہی کا کلیدی کردار تھا۔ ان کے مطابق اگر وقت پر 5 ایئرکرافٹس فراہم کیے جاتے تو یہ سانحہ ٹالا جا سکتا تھا۔

حکومت کی دھمکیاں اور دباؤ

ستیہ پال ملک نے اپنی حالیہ ٹویٹس اور انٹرویوز میں کئی بار حکومت کی طرف سے ملنے والی دھمکیوں اور شدید دباؤ کا ذکر کیا تھا۔

اپنے آخری ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ’ چاہے میں رہوں یا نہ رہوں، میں ہمیشہ سچ بتاؤں گا۔ مجھ پر حکومت کی جانب سے بے انتہا دباؤ ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:مودی بزدل انسان ہے، اسے پہلگام حملےپر معافی مانگنی چاہیے، ستیہ پال ملک

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ انہیں مقبوضہ کشمیر کی پالیسیوں پر خاموش رہنے کے لیے بارہا دھمکایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، مودی حکومت اپنے سیاسی مفادات کے لیے نہ صرف پلوامہ جیسے واقعات کا غلط استعمال کرتی ہے بلکہ کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو بھی دبانے کی کوشش کرتی ہے۔

راہول گاندھی اور کرن تھاپر کے ساتھ گفتگو

ستیہ پال ملک نے راہول گاندھی سے ملاقات میں واضح طور پر کہا تھا کہ پلوامہ حملے کو مودی نے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ، معروف صحافی کرن تھاپر کو دیے گئے انٹرویو میں بھی انہوں نے مودی پر سخت الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ ’ میں واضح کردوں کہ وزیراعظم مودی کو کرپشن سے کوئی نفرت نہیں ہے۔ میری اس بات پر حکومت اگر ناراض ہوتی ہے تو ہو، مگر جو حقیقت ہے وہ میں بیان کروں گا‘۔

پراسرار موت اور شکوک و شبہات

ستیہ پال ملک کی اچانک موت نے ان تمام بیانات کو ایک نئے تناظر میں لا کھڑا کیا ہے۔ سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا بھارتی ریاستی اداروں کی جانب سے ایک تنقیدی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا؟

مزید پڑھیں:بھارتی کالم نگار سشانت سنگھ نے مودی سرکار کے پہلگام فالس فلیگ اور اپریشن سندور بارے سوالات اٹھا دیئے

تاریخی طور پر مودی حکومت پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ تنقید کرنے والے صحافیوں، سماجی کارکنوں اور سیاسی مخالفین کو خاموش کرانے کے لیے سخت اقدامات اٹھاتی ہے۔

سچ کی قیمت؟

ستیہ پال ملک کی موت ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا بھارت میں سچ بولنا واقعی جان لیوا جرم بن چکا ہے؟ اور کیا ایک سابق گورنر کی زندگی بھی مودی حکومت کی سیاسی سچائیوں کے آگے محفوظ نہیں رہی؟

بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ ستیہ پال کی موت واقعی قدرتی تھی یا اس کے پیچھے کوئی منظم سازش کارفرما تھی۔

Related Articles