مشال یوسفزئی کا بطور سینیٹر نوٹیفکیشن تاحال جاری کیوں نہیں ہوا؟

مشال یوسفزئی کا بطور سینیٹر نوٹیفکیشن تاحال جاری کیوں نہیں ہوا؟

پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف کی نومنتخب سینیٹر مشال یوسفزئی نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹیفکیشن میں تاخیر کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 31 جولائی کو ثانیہ نشتر کی خالی نشست پرسینیٹ کا انتخاب ہوا تھا، جس میں مشال یوسفزئی کامیاب قرار پائیں۔ تاہم انتخاب کے سات دن گزرنے کے باوجود ان کا نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث وہ حلف بھی نہیں اٹھا سکیں۔.

الیکشن کمیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا سے چند ہفتے قبل منتخب ہونے والے دیگر 11 سینیٹرز کا نوٹیفکیشن چند دنوں میں جاری ہو گیا تھا اور ان کی حلف برداری بھی بروقت مکمل ہوئی تھی۔ لیکن مشال یوسفزئی کے کیس میں غیر معمولی تاخیر دیکھنے میں آئی ہے، جس پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس معاملے پر مشال یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ نوٹیفکیشن کے اجرا کی منتظر ہیں اور اُمید ہے کہ آئندہ چند روز میں یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔ تاہم اگر مزید تاخیر ہوئی تو وہ قانونی راستہ اختیار کریں گی۔

الیکشن کمیشن خیبرپختونخوا کے ترجمان سہیل خان نے اس حوالے سے بتایا کہ مشال یوسفزئی کی تمام متعلقہ دستاویزات اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے مرکزی دفتر کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن اب تک جاری ہو جانا چاہیے تھا تاہم امکان ہے کہ کام کے دباؤ یا دیگر انتظامی مصروفیات کے باعث تاخیر ہوئی ہو۔انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ مشال یوسفزئی کا نوٹیفکیشن ایک دو روز تک جاری کر دیا جائے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *