وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ تنازعات کا سامنے کرنے والے دنیا کے دیگر خطوں کے لیے بھی امن کی مثال قائم کرے گا۔
وزیراعظم نے ہفتہ کے روز اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان امریکی صدر کی سرپرستی اور قیادت میں ہونے والے اس معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے، جو بلاشبہ دانشمندی، دور اندیشی اور تدبر کی عمدہ مثال ہے۔ انہوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف اورآذربائیجانی عوام کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ معاہدہ نہ صرف جنوبی قفقاز بلکہ پوری دنیا میں امن، استحکام اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ پاکستان دل سے اس کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے برادر ملک آذربائیجان کی حکومت اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا ہے‘۔
قفقاز میں ایک نئے دور کا آغاز
یاد رہے کہ جمعہ کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں آرمینیا اورآذربائیجان کے درمیان ایک تاریخی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس نے کئی دہائیوں پر محیط دشمنی اور خونریز تنازع کا خاتمہ کر دیا۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک سفارتی تعلقات بحال کریں گے، سرحدوں کا احترام کریں گے اور دشمنی کا خاتمہ کریں گے۔
اس معاہدے کی تقریب وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی، جہاں صدر ٹرمپ کے ساتھ آذربائیجان کے صدر الہام علییف اور آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشینیان موجود تھے۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہیہ 35 سال کا تنازع تھا اور اب یہ دونوں ممالک دوست ہیں اور ہمیشہ دوست رہیں گے۔ یہ امن، خوشحالی اور شراکت داری کا نیا آغاز ہے‘۔
‘ٹرمپ راہداری’، علاقائی روابط کی نئی راہیں
معاہدے کے تحت امریکا کو جنوبی قفقاز سے گزرنے والی ایک اسٹریٹجک ٹرانزٹ راہداری پر خصوصی ترقیاتی حقوق حاصل ہوں گے، جسے غیر رسمی طور پر ’ٹرمپ روٹ فار انٹرنیشنل پیس اینڈ پراسپیریٹی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ راہداری نہ صرف خطے میں توانائی اور دیگر وسائل کی برآمدات کو بڑھانے میں مدد دے گی بلکہ علاقائی انضمام اور معاشی ترقی کی نئی راہیں کھولے گی۔
اس منصوبے میں اب تک 9 بین الاقوامی کمپنیاں، جن میں 3 امریکی کمپنیاں شامل ہیں، دلچسپی کا اظہار کر چکی ہیں۔ آرمینیا اس منصوبے کے لیے امریکا کو طویل مدتی خصوصی ترقیاتی حقوق دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکا، آذربائیجان تعلقات میں نئی پیش رفت
معاہدے کے بعد امریکا نے آذربائیجان پرعائد دفاعی پابندیاں بھی ختم کر دی ہیں، جس سے دوطرفہ دفاعی تعاون کے نئے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے روس کو ناراضی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ جنوبی قفقاز کو اپنے دائرہ اثر کا حصہ سمجھتا ہے۔
پاکستان کا خطے میں قیام امن کے لیے مکمل تعاون
وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاہدے کو علاقائی تجارت، روابط اور تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر اس کوشش کی حمایت کرے گا جو بین الاقوامی امن و استحکام کے قیام کے لیے کی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’یہ معاہدہ ان خطوں کے لیے ایک مثال ہے جو تنازعات اور انسانی المیوں کا شکار رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے دنیا بھر میں امن کی نئی راہیں کھلیں گی‘۔
یہ تاریخی معاہدہ عالمی سفارتکاری کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے خاتمے کی منتظر ہے۔