وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ 200 سے کم یونٹ والے صارف تقریباً 60 سے 70 لاکھ ہوتے تھے، ان صارفین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 1 کروڑ 83 لاکھ ہوگئی ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں پوچھے گئے سوالات پر جواب دیتے ہوئے اویس لغاری کاکہنا تھاکہ کرپٹو کے لیے بجلی کا ابھی تک کوئی ریٹ آفر نہیں کیا گیا، ملک میں تقریباً 7000 میگاواٹ اضافی بجلی دستیاب ہے اور نیشنل گرڈ پر تقریباً ساڑھے 3 کروڑ صارفین ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً 1 کروڑ 85 لاکھ صارفین کو 0 سے 100 یونٹ پر تقریباً 90 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے، 100 سے 200 یونٹ پر تقریباً 70 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے، سلیب پر کہیں نہ کہیں ایک یونٹ کا اثر آئے گا۔
وزیر توانائی نے بتایاکہ 200 سے کم یونٹ والے صارف تقریباً 60 سے 70 لاکھ ہوتے تھے، ان صارفین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 1 کروڑ 83 لاکھ ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ پچھلے 9 ماہ میں بجلی کی قیمتوں میں کمی سے 200 یونٹ سے کم صارفین کیلئے بجلی مزید 60 فیصد سستی کی، جون 2024 میں انڈسٹری سے 255 ارب روپے کی کراس سبسڈی لی جاتی تھی، کراس سبسڈی کا حجم 255 ارب سے کم ہو کر 94 ارب رہ گیا ہے، ٹیکس سمیت بجلی کا ٹیرف 48.7 سے کم کر کے 38.4 کیا ہے۔
اویس لغاری کا کہنا تھاکہ ہم نے کراس سبسڈی کا بوجھ کم کیا اور بجلی کی مجموعی قیمت میں بھی کمی کی ہے، کراس سبسڈی کا بوجھ گھریلو صارفین پر بھی نہیں پڑنے دیا۔
انہوں نے کہا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں تقریباً 58 فیصد کمی کی گئی، نان پروٹیکٹڈ صارفین کے ریٹ میں بھی سلیب کے مطابق 11 سے 17 فیصد تک کی کمی کی، حکومت اب مزید بجلی نہیں خریدے گی۔