بھارت ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نا پسندیدہ ترین ملک قرار

بھارت ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نا پسندیدہ ترین ملک قرار

بینک آف امریکا (بی آف اے) کے حالیہ سروے کے مطابق عالمی فنڈ مینیجرز کی نظر میں بھارت نے صرف 3 مہینوں میں ایشیا کی سب سے پسندیدہ اسٹاک مارکیٹ سے سب سے نا پسندیدہ مارکیٹ کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

بینک آف امریکا کے سروے کے مطابق یہ تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر تجارتی محصولات بڑھانے کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان امریکی صدر کا پسندیدہ ملک ، بھارت کو دباؤ کا سامنا ، بلومبرگ کا دعویٰ

سروے کے مطابق مئی میں بھارت کو ٹرمپ کی ابتدائی تجارتی پالیسیوں کے دوران ایک محفوظ سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا تھا اور اس نے جاپان کو پیچھے چھوڑ کر سب سے پسندیدہ مارکیٹ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

تاہم سروے کے مطابق اب صورتحال بدل گئی ہے۔ تازہ ترین سروے اس تشویش کو اجاگر کرتا ہے جو بھارت کی روس سے تیل کی خریداری کے جواب میں امریکی صدر کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر محصولات دگنے کرنے کے فیصلے سے پیدا ہوئی ہے۔

’بینک آف امریکا کے اسٹریٹیجسٹ ریتیش سمدھیا کی سربراہی میں 12 اگست کو جاری ایک نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’بھارت صدر ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کے اعلان سے بری طرح متاثر ہوا ہے‘۔ اس کے برعکس، چین جیسی مارکیٹوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا رجحان مثبت ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان امریکی صدر کا پسندیدہ ملک ، بھارت کو دباؤ کا سامنا ، بلومبرگ کا دعویٰ

اس منفی رجحان کے باعث عالمی سرمایہ کاروں نے رواں سہ ماہی میں بھارتی حصص سے تقریباً 4 ارب ڈالر نکال لیے ہیں۔ تاہم، مقامی سطح پر سرمایہ کاری کا رجحان مضبوط رہا ہے، بھارتی میوچوئل فنڈز، جنہیں زیادہ تر سرمایہ مقامی انفرادی سرمایہ کاروں سے حاصل ہوتا ہے، نے جولائی میں ریکارڈ 427 ارب روپے (4.9 ارب ڈالر) کی خالص سرمایہ کاری حاصل کی، جیسا کہ ایسوسی ایشن آف میوچوئل فنڈز ان انڈیا (اے ایم ایف آئی ) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔

اس کے باوجود، بھارتی اسٹاک مارکیٹس مسلسل بدترین ہفتہ وار مندی کا سامنا کر رہی ہیں، جو کووڈ-19 وبا کے بعد پہلی بار دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں سال کے دوران بھارتی اسٹاکس نے بیشتر ایشیائی مارکیٹوں کے مقابلے میں کم کارکردگی دکھائی ہے۔ صرف جولائی میں، چینی حصص نے بھارتی مارکیٹ کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد پوائنٹس بہتر کارکردگی دکھائی، جو فروری کے بعد سب سے بڑی برتری ہے۔

’ جئوجیت فنانشل سروسز کے چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹیجسٹ وی کے وجے کمار نے کہا ہے کہ’ٹرمپ کے سخت ٹیرف اور امریکا و بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات نے مارکیٹ کے جذبات پر اثر ڈالا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ کمزور آمدنی اور مہنگی ویلیوایشنز نے بیئرز (نقدی نکالنے والے سرمایہ کاروں) کو مختصر پوزیشنز لینے پر اکسایا ہے۔

جیسے جیسے جغرافیائی سیاسی تناؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے، سرمایہ کار یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ بھارت کس طرح بیرونی دباؤ اور داخلی معاشی چیلنجز کا سامنا کرتا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *