وفاقی وزیر خزانہ و سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملکی قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم ادائیگیوں کے ساتھ یہ صورتحال بہتر ہو جائے گی، رواں مالی سال میں معیشت کی بہتری کیلئے مزید اقدامات کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا اقتصادی میدان میں پاکستان کی کامیابیوں کا اعتراف عالمی مالیاتی ادارے بھی کر رہے ہیں، ایک تیسری عالمی ریٹنگ بھی پاکستان کی معاشی کامیابیوں کا اعلان کرے گی۔
سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا تھا گزشتہ ڈیڑھ سال میں معیشت مستحکم ہوئی ہے، پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی لائی گئی ہے، شرح سود میں جلد مزید کمی کا اعلان بھی کیا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی معیشت میں تاجروں کا اہم کردار ہے، سرکاری اداروں کی نجکاری اس سال تیزی سے آگے بڑھے گی، اویس لغاری اور ان کی ٹیم نے توانائی کے شعبے میں بہتری کیلئے نمایاں کام کیا، 78 سال میں پہلی بار ٹیرف اصلاحات کا آغاز ہوا ہے، بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے ٹاسک فورس کام کر رہی ہے, شرح سود میں جلد ہی مزید کمی کا اعلان جلد کیا جائے گا اور بجلی بھی سستی کی جائے گی۔
ان کہنا تھا مانتا ہوں ملکی قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ایک بڑا اضافہ ہے لیکن جیسے جیسے قرضوں کی ادائیگی ہو گی یہ صورتحال بہتر ہوگی، ریاستی ملکی اداروں کی نجکاری کا عمل تیزی سے جاری رہے گا جبکہ حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار زرعی آمدنی کو بھی ٹیکس نظام کا حصہ بنایا گیا ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا جتنی مالیاتی اسپیس میسر تھی اس کے مطابق تنخواہ داروں کو ریلیف دے چکے، تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس نہیں ڈال سکتے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ایسی معیشت بنائیں گے جو جدت کی حوصلہ افزائی اور کاروبارکے نئے مواقع پیدا کرے گی، پالیسی ریٹ کے معاملات مکمل طور پر سٹیٹ بینک کا اختیار ہونا چاہیے۔