پاکستان میں متعین چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا ہے کہ پاکستان اب بیرونی چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکتا ہے، پاکستانی عوام اس تبدیلی کو گہرائی سے محسوس کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں سی پیک سے متعلق سیمینار سے خطاب میں چینی سفیر کا کہنا تھاکہ سکیورٹی کے مسائل تعاون کے فروغ کے ساتھ بتدریج حل ہو جائیں گے، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مضبوط کارروائی کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستان نے انسداد دہشت گردی کی جدوجہد میں بڑا کردار ادا کیا ہے، ترقی کے دوران آنے والے مسائل کا حل مزید ترقی میں ہے، پاکستان کا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پختہ عزم ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ حالیہ عرصے میں پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا وژن صرف اور صرف کام کرنا ہے، اسی جذبے سے پاکستان کی معیشت اور معاشرت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جب میں آیا تو پاکستان کی جی ڈی پی منفی شرح پر تھی لیکن گزشتہ مالی سال کے اختتام پر جی ڈی پی کی شرح نمو 2.68 فیصد ہوگئی۔
چینی سفیر کا کہنا تھاکہ پاکستان میں سی پی آئی 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گئی ہے، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے، پاکستان کی معیشت میں بہتری اور عوامی زندگی میں دباؤ کم ہو رہا ہے، اعداد و شمار میں یہ تبدیلی پاکستان کی ترقی کی صلاحیت میں اضافہ ظاہر کرتی ہے، ترقی کی صلاحیت بڑھنے سے معاشی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشی طاقت بڑھنے سے اسٹریٹیجک آزادی بھی مضبوط ہوتی ہے، پاکستان اب بیرونی چیلنجز کا بہتر مقابلہ کر سکتا ہے، پاکستانی عوام اس تبدیلی کو گہرائی سے محسوس کر رہے ہیں، چینی صدر نے کہا ہے کہ قوم کی ترقی اپنی طاقت کی بنیاد پر ہونی چاہیے، ملک کی ترقی اور خوشحالی کی تقدیر اپنے ہاتھ میں رکھنی چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی قیادت کے ترقیاتی وژن میں مکمل ہم آہنگی ہے، دونوں ممالک کے یکساں وژن سے ترقی کا رخ واضح ہے، کئی پاکستانی دوست چین جا کر وہاں کی ترقی دیکھ چکے ہیں، چین کی جی ڈی پی مسلسل بڑے سنگ میل عبور کر رہی ہے، جی ڈی پی 110 کھرب سے 130 کھرب یوآن تک پہنچ چکی ہے، اس سال جی ڈی پی 140 کھرب یوآن تک پہنچنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کی ترقی کے ساتھ انفراسٹرکچر کی تعمیر بھی اہم ہے، صدر شی جن پنگ نےکہا ہم اکیلے جدیدیت نہیں چاہتے، ہم ترقی کی روشنی سب کےلیےچاہتے ہیں، دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مل کر جدیدیت حاصل کرنا چاہتے ہیں، چین اور پاکستان مل کر ترقی اور جدیدیت کا ہدف حاصل کریں گے۔
چینی سفیر کے مطابق ہم دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ترقی کے خواہاں ہیں، ہم بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت کاروباری ترقی کو آگے بڑھا رہے ہیں، پاکستان کا ترقیاتی منصوبہ بیلٹ اینڈ روڈ سے مکمل ہم آہنگ ہو سکتا ہے، یہ ہم آہنگی پاک چین اقتصادی راہداری کے اگلے مرحلے کےلیے نئی قوت فراہم کرے گی، گزشتہ دہائی میں مشترکہ رہنمائی کے تحت راہداری منصوبے نے تیز رفتار ترقی کی، اقتصادی راہداری میں اب تک 25.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔
ان کا کہناتھاکہ راہداری منصوبے نے 2 لاکھ 36 ہزار روزگار کے مواقع پیدا کیے ہیں، راہداری منصوبے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچا رہا ہے، زراعت پاکستان کا روایتی اور مضبوط شعبہ ہے، پاکستان کے پاس وافر زرعی وسائل موجود ہیں، پاکستان کی چین کو برآمدات میں زراعت واحد شعبہ ہے جس میں تجارتی سرپلس ہے، زرعی شعبے میں پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی سرپلس 6 ارب ڈالر کے قریب ہے۔