اسلام آباد۔ پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں اگست 2025 میں نئے ٹیکسز اور کلائمیٹ لیوی کے اعلان کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر پٹرول انجن والی گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) اور گرین ٹیکس نے صارفین اور مینوفیکچررز دونوں کو متاثر کیا ہے۔
سستی ترین سوزوکی آلٹو پر نان فائلرز کو اب تقریباً 45 ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا، جبکہ اگر کوئی شخص ٹیکس نیٹ میں آئے بغیر سوزوکی سوئفٹ خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے 2 لاکھ روپے سے زائد ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
بجٹ 2025 کے بعد پٹرول گاڑیوں پر انجن کے حجم کے مطابق 1 سے 3 فیصد تک گرین ٹیکس لاگو کیا گیا ہے، جبکہ 850cc سے کم گاڑیوں پر جی ایس ٹی بھی نافذ کیا گیا ہے۔
حکومت نے ساتھ ہی ایک نئی “نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی” کو بھی حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جس کا مقصد برقی دو اور تین پہیہ گاڑیوں کو فروغ دینا ہے، تاکہ طویل المدتی طور پر صاف اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو اپنایا جا سکے۔
انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صارفین کو گاڑیوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ مینوفیکچررز کو نئے ٹیکس ڈھانچے اور الیکٹرک موبیلٹی کی طرف منتقلی کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔