وزارت خارجہ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں کا انکشاف

وزارت خارجہ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ آڈٹ رپورٹ میں وزارت خارجہ (موفا) کے اندر سنگین مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس میں دنیا بھر میں پاکستانی سفارتی مشنز میں بدعنوانی، خوردبرد اور طریقہ کار کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بیرون ملک جیلوں میں قید کتنے پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا؟، وزارت خارجہ نے تفصیل بتادی

میڈیا رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024–25 کے لیے جاری کردہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، 3.54 ارب روپے کی مالی بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں، جو وزارت میں احتساب اور شفافیت کے شدید فقدان کی نشاندہی کرتی ہیں۔

رپورٹ میں سب سے سنگین کیس ویانا، آسٹریا میں پاکستانی سفارتخانے کے سابق اکاؤنٹنٹ سے متعلق ہے، جس نے مبینہ طور پر 4 لاکھ 42 ہزار یورو اور 1 لاکھ 34 ہزار 291 امریکی ڈالر، یعنی تقریباً 16 کروڑ 56 لاکھ 90 ہزار روپے، سرکاری اکاؤنٹس سے نکال کر اپنے اور اپنی بیوی کے مشترکہ ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔

نجی ٹی وی نے آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ فروری 2024 میں وزارت خارجہ کو اس فراڈ سے مطلع کیا گیا تھا، تاہم رپورٹ کے حتمی ہونے تک نہ تو کوئی انکوائری رپورٹ جاری کی گئی تھی اور نہ ہی متعلقہ شخص کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی گئی۔

آڈٹ رپورٹ میں 2018 سے 2022 کے درمیان 3 مزید ایسے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے، جن سے قومی خزانے کو 10 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مختلف غیر ملکی مشنز میں 57 کروڑ روپے کی خریداری قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی، جن میں مہنگی گاڑیوں کی بغیر ٹینڈر خریداری بھی شامل ہے، حالانکہ حکومت کی طرف سے ایسی خریداری پر پابندی عائد ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک اور کیس میں ایک سابق سیکریٹری خارجہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسلام آباد کے پوش علاقے میں سرکاری رہائش اپنے پاس رکھی، جس پر 14 لاکھ 77 ہزار روپے کی ریکوری کی ہدایت کی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2013 سے 2022 کے دوران 5 غیر ملکی مشنز نے وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر اسٹاف بھرتی کیا، جس کے باعث 4 کروڑ 46 لاکھ روپے کا غیر مجاز خرچ ہوا۔

مزید یہ کہ بارسلونا، ہیوسٹن، بیونس آئرس، جنیوا اور دبئی میں واقع سفارتی مشنز نے 2018 سے 2023 کے دوران سیکیورٹی ڈپازٹس کی وصولی میں بھی کوتاہی برتی ہے۔

یہ رپورٹ پاکستان کے سفارتی مشنز میں انتظامی اور مالی بدانتظامی کی سنگین تصویر پیش کرتی ہے اور فوری تحقیقات، مالی نقصانات کی وصولی اور سخت نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ تاحال وزارت خارجہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *