ملک بھر میں شدید بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورت حال کا نیا الرٹ جاری کردیا گیا، لینڈ سلائیڈنگ اور نالوں میں طغیانی کا خطرہ لاحق ہے۔
میڈئا رپورٹ کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) نے 23 سے 30 اگست تک ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں ا ور ممکنہ سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری کردیا۔ این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے ملک کے مختلف علاقوں میں موسمی صورتحال سے متعلق عوم کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کردیا۔
این ای او سی کے مطابق پاکستان میں بارش برسانے والے تین موسمی سلسلے داخل ہو رہے ہیں، 23 تا 30 اگست کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ 23تا 25 اگست اسلام آباد، کشمیر، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں شدید بارشیں متوقع ہیں، شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا شدید خطرہ ہے، پنجاب کے شمال مشرقی اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ راولپنڈی، اٹک، جہلم، میانوالی، خوشاب اور سرگودھا میں بارشیں متوقع جبکہ سیالکوٹ، گجرات، حافظ آباد اور منڈی بہاؤالدین میں بارش کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے۔
لاہور، فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور نارووال میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، تلہ گنگ اور چکوال میں شدید بارشیں اور سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔
جاری ہونے والے الرٹ کے مطابق ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور راجن پور کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 23 تا 27 اگست ممکنہ بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ اور ، چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور مانسہرہ میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔ بٹگرام، ایبٹ آباد، ملاکنڈ، پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ، مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔
اس کے علاوہ صوابی، مردان، مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن میں شدید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، جبکہ آزاد کشمیر میں مظفرآباد، راولا کوٹ اور باغ میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ درپیش ہے۔ حویلی، کوٹلی، میرپور اور بھمبر میں بارش کے باعث ممکنہ طور پر سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، 23تا 27 اگست گلگت بلتستان میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گلگت، سکردو، ہنزہ، غذر اور دیامر میں شدید بارشیں متوقع ہیں جبکہ استور، گانچھے اور شگر میں لینڈ سلائیڈنگ سے رابطہ سڑکیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جاری ہونے والے الرٹ کے مطابق سندھ کے ساحلی اضلاع میں 27 تا 30 اگست شدید بارشیں متوقع ہیں، کراچی، ٹھٹہ، سجاول، بدین اور تھرپارکر میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔
سندھ کے اندرون اضلاع حیدرآباد، جامشورو، نواب شاہ اور دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ اور جیکب آباد، شکارپور، کشمور اور شہید بینظیر آباد میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔ بلوچستان کے اضلاع لسبیلہ، خضدار اور آواران میں موسلادھار بارشیں جبکہ قلات، گوادر، تربت، کیچ اور پنجگور میں طوفانی ہواؤں کے ساتھ بارشیں متوقع ہیں۔
کوئٹہ، زیارت، ژوب، لورالائی اور بارکھان میں 24 تا 25 اور 27 تا 30 اگست بارشیں متوقع ہیں، موسیٰ خیل، ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی، اوستہ محمد، ڈیرہ بگٹی اور آواران میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، نصیر آباد، کیچ اور لہری میں بارشوں کے باعث ممکنہ سیلابی صورتحال درپیش ہے۔
ڈیموں میں پانی کی مزید گنجائش نہ ہونے سے دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے، دریائے سندھ میں تونسہ، گڈو اور کالا باغ پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک تک متوقع ہے۔
اس کے علاوہ دریائے راوی اور چناب کے ملحقہ علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ کا خدشہ ہے، این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مقامی انتظامیہ سے فوری رابطہ کریں۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق محکمہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات یقینی بنا رہے ہیں۔
مزید بارشوں کی صورت میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے، این ڈی ایم اے نے ہدایت دی ہے کہ شہری بارشوں اور سیلاب کے دوران محتاط رہیں اور حفاظتی اقدامات اپنائیں، سیاح حضرات بھی خصوصی طور پر شمالی علاقہ جات کا سفر کرنے سے گریز کریں۔