ملک میں چینی کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں بھی اچانک بڑا اضافہ ہوگیا۔
پاکستان میں مہنگائی کی لپیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، گندم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث آٹے کی قیمتیں ریٹیل مارکیٹ میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں ہیں، جس سے عام آدمی کی روزمرہ زندگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق گندم کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 72 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے جس کے باعث ہول سیل مارکیٹ میں ڈھائی نمبر آٹا 15 روپے اور فائن آٹا 9 روپے فی کلو مہنگاہوگیاہے۔
ہول سیل میں ڈھائی نمبر آٹا 81 روپے اور فائن آٹا 87 روپے فی کلو میں فروخت ہورہاہے۔
چیئرمین ہول سیل گروسرزکاکہناہے کہ حکومت فوری طور پر آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لے ، ہول سیل میں ڈھائی نمبر آٹا 66 اور فائن آٹا 78 روپے فی کلو میں دستیاب تھا۔
انہوں نے کہا ک اب ریٹیل میں ڈھائی نمبر آٹا 6 اور فائن 8 روپے کلو مہنگا ہوگیا ہے جس کے بعد ریٹیل میں ڈھائی نمبر آٹا 110 روپے اورفائن آٹا 120 روپے فی کلو تک پہنچ گیاہے۔
مہنگائی کی موجودہ لہر میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے ایک اور بڑا جھٹکا ہے ، گندم کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ، انتظامی ناکامی اور ذخیرہ اندوزی جیسے عوامل نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ماہرین اور تاجر برادری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے اور گندم و آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے، ورنہ آنے والے دنوں میں مہنگائی کا طوفان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔