یوکرین نے یومِ آزادی کے موقع پر روسی علاقوں پر ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کر دی، جس کے نتیجے میں مغربی روس کے کورسک نیوکلیئر پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی، تاہم حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب روس اور یوکرین کے درمیان امن کی کوششیں مزید ماند پڑتی جا رہی ہیں، ماسکو نے صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان کسی بھی فوری ملاقات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
یوکرین کے مطابق اس کے ڈرونز نے روسی توانائی ڈھانچوں کو بھی نشانہ بنایا، جن میں خلیج فن لینڈ پر واقع اُست-لوگا بندرگاہ شامل ہے، جہاں روسی کمپنی نوواتیک کے فیول ٹرمینل میں آگ بھڑک اٹھی۔ روسی حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ کئی ڈرونز سینٹ پیٹرزبرگ سمیت دیگر شہروں کے اوپر بھی مار گرائے گئے۔
دوسری جانب ماسکو نے یوکرین پر بیلسٹک میزائل اور درجنوں ایرانی ساختہ ڈرونز سے جوابی حملے کیے۔ یوکرینی فضائیہ نے دعویٰ کیا کہ 72 میں سے 48 ڈرونز کو مار گرایا گیا، تاہم دنیپروپیٹروسک میں ایک روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک 47 سالہ خاتون جاں بحق ہو گئی۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے یومِ آزادی کے خطاب میں کہا کہ “یوکرین مظلوم نہیں بلکہ ایک لڑاکا ملک ہے۔ ہم نے اپنی آزادی کو محفوظ کر لیا ہے انہوں نے زور دیا کہ جنگ کے باوجود قوم اپنے دفاع اور آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
ادھر کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کیف میں تقریبات میں شرکت کی اور یوکرین کے لیے منصفانہ اور پائیدار امن کی حمایت کا اعادہ کیا۔