پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارٹی عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ روز بانی پی ٹی آئی سے باضابطہ طور پر عہدے سے علیحدگی کی درخواست کریں گے۔ تاہم، وہ پارٹی کے لیے اپنی وکالتی خدمات بغیر کسی معاوضے کے جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے، جو ان سے واضح اور دوٹوک فیصلے کا تقاضا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے اور ان کا کوئی عمل اصولوں سے متصادم نہیں رہا۔ ان کے مطابق ان کا خاندان ان کے فیصلے میں ان کے ساتھ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندرونی اور بیرونی دباؤ اور الزامات کا سامنا انہوں نے صبر و تحمل سے کیا، جس پر انہیں کوئی افسوس نہیں۔ اپنے قانونی کیریئر کو ایک طرف رکھتے ہوئے، انہوں نے سیاسی سفر میں درپیش معاشی غیر یقینی کو بخوشی قبول کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خان کے درمیان ضمنی انتخابات کے حوالے سے اختلاف رائے سامنے آیا، جس کے بعد سلمان اکرم راجہ نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی واضح ہدایت تھی کہ پارٹی ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لے۔
سلمان اکرم راجہ نے علیمہ خان کو سیاسی کمیٹی کے مؤقف اور اراکین کی رائے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق ضمنی انتخابات میں شمولیت کے معاملے پر ہونے والی ووٹنگ میں 13 ارکان نے شرکت کی حمایت کی، جبکہ 9 نے مخالفت کی۔
پچھلے منگل میں نے علی بخاری ایڈووکیٹ کے ذریعے عمران خان صاحب کو درخواست بھیجی تھی کہ پارٹی ممبران کو بے تحاشہ ناحق سزاؤں کے پیش نظر مجھے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹ کر قانونی معاملات پر توجہ مرکوز کرنے دی جائے۔ خان صاحب نے میری درخواست منظور نہ کی۔ میں انکے اعتماد پر شکر گزار ہوں۔
— salman akram raja (@salmanAraja) August 25, 2025