پاکستان نے نئے مالی سال کا آغاز مثبت انداز میں کیا، جولائی 2025 میں 695 ملین ڈالر کی غیر ملکی آمدن حاصل کی، جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 59 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا پاکستان پر اعتماد، خاص طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کی منظوری کے بعد بحال ہوا‘۔
وزارتِ اقتصادی امور کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کو جولائی میں 675 ملین ڈالر کے غیر ملکی قرضے اور 19 ملین ڈالر کی گرانٹس موصول ہوئیں، جبکہ جولائی 2024 میں یہ اعداد و شمار بالترتیب 426 ملین اور 10.5 ملین ڈالر تھے۔
گزشتہ سال جولائی میں پاکستان کو 9 ماہ کے اسٹینڈ بائی معاہدے (ایس بی اے) کے تحت 5.1 ارب ڈالر کی آمدن ہوئی تھی، جس میں سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر اور آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر شامل تھے۔
تاہم اس سال کا اضافہ خاص طور پر نان پراجیکٹ فنانسنگ اور بجٹ سپورٹ قرضوں میں نمایاں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے۔
نان پراجیکٹ فنانسنگ اور بجٹ سپورٹ میں نمایاں اضافہ
جولائی 2025 میں نان پراجیکٹ فنانسنگ میں تقریباً 250 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جو 129 ملین ڈالر سے بڑھ کر 448 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ اگرچہ پراجیکٹ فنانسنگ میں 20 فیصد کمی آئی اور یہ 246.47 ملین ڈالر رہی، تاہم بجٹ سپورٹ قرضے نمایاں طور پر بڑھ کر 196 ملین ڈالر ہو گئے، جو جولائی 2024 میں صرف 1.23 ملین ڈالر تھے۔
یہ بجٹ فنانسنگ میں ریکارڈ اضافہ ہے، حالانکہ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے اس کی سالانہ حد 13.5 ارب ڈالر مقرر کی ہے، جو گزشتہ سال کی 15 ارب ڈالر کی حد سے کم ہے۔
دوطرفہ مالی امداد میں بہتری
کثیرالطرفہ اور دوطرفہ قرض دہندگان کی جانب سے پاکستان کو جولائی میں مجموعی طور پر 498.3 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو سالانہ 6.4 ارب ڈالر کے ہدف کا حصہ ہیں۔ گزشتہ سال اسی ماہ میں یہ امداد 309 ملین ڈالر رہی تھی۔
کثیرالطرفہ اداروں سے اس سال جولائی میں 380 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے 201 ملین ڈالر سے زیادہ ہیں، حالانکہ اس سال کا ہدف 4.5 ارب ڈالر مقرر ہے۔
دوطرفہ امداد (اسٹریٹجک اتحادیوں کو چھوڑ کر) 118 ملین ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے 108 ملین ڈالر سے معمولی زیادہ ہے۔
سعودی آئل سہولت اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس سے آمدنی میں اضافہ
جولائی میں پاکستان کو سعودی آئل سہولت کے تحت 100 ملین ڈالر موصول ہوئے، جو کہ 1 ارب ڈالر کے سالانہ ہدف کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعے 196.2 ملین ڈالر بھیجے، جو جولائی 2024 کے 128 ملین ڈالر کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔ حکومت نے ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے رواں سال کے لیے 609 ملین ڈالر کا ہدف مقرر کیا ہے۔
سالانہ ہدف میں توسیع
رواں مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے غیر ملکی آمدنی کا ہدف 19.9 ارب ڈالر مقرر کیا ہے، جو گزشتہ سال کے 19.4 ارب ڈالر کے ہدف سے کچھ زیادہ ہے۔
اس میں 6.4 ارب ڈالر کثیرالطرفہ اور دوطرفہ قرض دہندگان سے، 400 ملین ڈالر بین الاقوامی بانڈز سے، 3.1 ارب ڈالر غیر ملکی کمرشل قرضوں سے، اور اسٹریٹجک اتحادیوں سے بڑی مالیت کے ڈپازٹس شامل ہیں جن میں سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر اور چین سے 4 ارب ڈالر کے ’ایس اے ایف ای‘ ڈپازٹس شامل ہیں۔
جولائی میں مستحکم آغاز اس بات کی علامت ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اقتصادی اصلاحات پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، تاہم پورے سال کا ہدف حاصل کرنا کثیرالطرفہ تعاون اور اہم اتحادیوں کی مسلسل حمایت پر منحصر ہوگا۔