عوام کے لیے خوشخبری ، پرانی گاڑیوں کی امپورٹ پر نرمی کا امکان

عوام کے لیے خوشخبری ، پرانی گاڑیوں کی امپورٹ پر نرمی کا امکان

پاکستان میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی قیمتیں دنیا بھر میں گاڑیوں کی قیمتوں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ بیشتر لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ بیرون ممالک خصوصاً جاپان سے گاڑی امپورٹ کریں، جہاں گاڑیوں کی قیمت نسبتاً کم ہے تاہم پاکستان پہنچنے تک اس گاڑی پر اتنے ٹیکسز عائد ہو جاتے ہیں کہ اس کی قیمت کئی گنا بڑھ جاتی ہے دوسری جانب حکومت نے 3 سال سے پرانی گاڑی کی امپورٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

رواں مالی سال کے بجٹ میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ 5 اور 10 سال تک کی پرانی گاڑیوں پر اضافی ڈیوٹی عائد کرتے ہوئے امپورٹ کی اجازت دی جائے، اب حکومت نے آئی ایم ایف کی مشاورت سے 5 سال تک کی پرانی گاڑی کی امپورٹ پر 40 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس ضمن میں عائد پابندی یہ ہے کہ مذکورہ گاڑی حادثے کا شکار، کسی فنی خرابی یا دھواں چھوڑنے والی گاڑی نہ ہو، اس فیصلے کا اطلاق آئندہ مالی سال یعنی جولائی 2026 کے بعد منگوائی جانے والی گاڑیوں پر ہوگا جبکہ 10 سال پرانی گاڑی امپورٹ کرنے کی اجازت دوسرے مرحلے میں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں خریدتے وقت کسی بھی ممکنہ فراڈ سے بچنے کا طریقہ

وزارت تجارت کی دستاویز کے مطابق اس وقت پاکستان میں امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر 50 سے 156 فیصد تک ڈیوٹیز عائد ہیں، پرانی گاڑی امپورٹ کرنے کی صورت میں 90 سے 196 فیصد تک ڈیوٹی وصول کی جائے گی جس سے گاڑی کی قیمت میں اضافہ ہوجائے۔

 اس وقت امپورٹ کی جانے والی850 سی سی تک کی گاڑیوں پر 50 فیصد، ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 71 فیصد، 1500 سی سی تک کی گاڑیوں پر 76 فیصد، 1800 سی سی گاڑیوں پر 91 فیصد اور 2500 یا اس سے بڑی گاڑی پر 156 فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *