اقوام متحدہ نے پاکستان میں تباہ کن مون سون بارشوں اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی طور پر 6 لاکھ ڈالر کی امداد جاری کر دی ہے، طوفانی بارشوں، سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ سے ملک بھر میں جاں بحق افراد کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان، اسٹیفن دوجارک نے ایک میڈیا بریفنگ کے دوران امداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی حکام اس بحران کے خلاف ردعمل کی قیادت کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ اور مقامی شراکت دار ان کی معاونت کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہفتے کے اختتام پر، ہماری ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر، ٹام فلیچر نے علاقائی فنڈ سے 6 لاکھ ڈالر جاری کیے تاکہ جاری کوششوں کی مدد کی جا سکے‘۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق 26 جون سے اب تک شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 802 افراد جاں بحق اور 1,088 زخمی ہو چکے ہیں۔ صرف 15 اگست کے بعد سے، غیر معمولی بارشوں کے نتیجے میں 489 افراد جاں بحق اور 348 زخمی ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 408 اموات اور 258 زخمیوں کی اطلاع ہے۔
مون سون کی بارشوں نے ملک کے مختلف حصوں میں تباہی مچائی ہے، فصلوں کو نقصان پہنچا، مویشی ہلاک ہوئے اور ہزاروں مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ پنجاب، جو پاکستان کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے، میں دریائے ستلج اور راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث 1,70,000 سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق متاثرہ افراد کو فوری طور پر شیلٹر، طبی امداد، صاف پانی، صفائی کے آلات، نقد امداد اور تعلیمی سہولیات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، پاکستانی حکومت نے بھی سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 3 ارب روپے (تقریباً 10.8 ملین ڈالر) کی ہنگامی امداد کی منظوری دی ہے۔
بارشوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ملک کے مختلف حصے اب بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی ادارے مل کر امدادی کارروائیاں تیز کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے اور انہیں جلد از جلد بحالی کی طرف لے جایا جا سکے۔