یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی روسی ہم منصب پیوٹن سے براہ راست بات چیت کو تیار ہوگئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روس کے وزیر خارجہ سر گئی لارؤف نے تاحال ایسی کسی ملاقات سے انکار کر دیا ہے تاہم یوکرینی صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ترکیہ سمیت خلیجی عرب ممالک اور یورپی یونین کو پیوٹن سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔
زیلنسکی کاکہنا ہے کہ پیوٹن سے مذاکرات کی وجہ جلد جنگ بندی کرنا ہے، رواں ہفتے یورپ اور عرب ممالک کے رہنماؤں سے رابطہ کروں گا۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں روس اور یوکرین نے سے ایک دوسرے کے مزید 146 قیدیوں کو رہا کردیا ہے، روسی وزارتِ دفاع نے قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ یو اے ای کی ثالثی میں ہوا ہے۔
روس کی وزارتِ دفاع نے اس تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ تمام آزاد کردہ روسی قیدی بیلاروس میں ہیں، جہاں انہیں نفسیاتی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے پیغام میں اس تبادلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیشتر قیدی 2022 میں روس کی یوکرین پر حملے کے بعد سے قید تھے، زیلنسکی نے واپس آنے والے قیدیوں کی تصاویر شیئر کیں، جن میں سے ایک صحافی بھی شامل تھا جسے حملے کے ایک ماہ بعد قید کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کی ہونے والی طویل ملاقات میں روس یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوسکا تھا۔