پنجاب میں شدید سیلابی صورت حال، فوج طلب

پنجاب میں شدید سیلابی صورت حال، فوج طلب

پنجاب بھر میں شدید سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے 6 اضلاع میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کو طلب کر لیا ہے۔ دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی کا اچانک اخراج اور مسلسل مون سون بارشیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے پیشِ نظر ہنگامی صورتحال، 6 اضلاع میں فوج طلب کر لی گئی

پراوِنشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بھارت نے دریائے راوی پر واقع تھین ڈیم کے تمام دروازے کھول دیے ہیں، جب کہ مدھوپور ڈیم سے بھی پانی چھوڑنے کی دوسری وارننگ پاکستان کو موصول ہو چکی ہے۔ یہ دونوں ڈیم بھارتی پنجاب میں واقع ہیں اور ان سے نکلنے والا پانی براہ راست پاکستان میں داخل ہوتا ہے، جس سے صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔

بدھ کی صبح 2 بجے تک، دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ اور دریائے راوی پر ہیڈ جسار کو ’انتہائی بلند سیلاب‘ کی سطح پر قرار دیا گیا، جہاں پانی کے اخراج کی رفتار بالترتیب 900,000 اور 200,000 کیوسک سے تجاوز کر گئی۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب پر ہیڈ خانکی اور ہیڈ قادرآباد بھی اگلے 24 گھنٹوں میں انتہائی بلند سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

دوسری جانب، دریائے ستلج پر بھی پانی کی سطح خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے، جہاں ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا اخراج 245,000 کیوسک سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر، درجنوں دیہات متاثر اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، خاص طور پر ضلع قصور، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر اور بہاولپور میں۔

قصور میں 72 دیہات اور 45,000 افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ ہنگامی بنیادوں پر انخلا جاری ہے، اور ریسکیو 1122 اب تک قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی سے 28,000 سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے دریا کنارے اور نالوں، خاص طور پر ڈیگ نالہ سے فوری انخلا کی ہدایات جاری کی ہیں۔

فوج طلب

پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق، لاہور، فیصل آباد، قصور، سیالکوٹ، نارووال اور اوکاڑہ میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور ان علاقوں میں فوج کو تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ ضلعی انتظامیہ کو لوگوں کی جان و مال کے تحفظ میں مدد دی جا سکے۔ یہ فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر کیا گیا۔

مزید پڑھیں:وزیر اعظم کی وفاقی وزراء کو پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں سے متعلق خصوصی ہدایات

ترجمان نے کہا کہ ’فوج کو سول انتظامیہ کی مدد اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بلایا گیا ہے۔’ہوم ڈیپارٹمنٹ نے وفاقی وزارت داخلہ کو باقاعدہ درخواست بھیجی ہے اور ہر ضلع میں فوجی اہلکاروں کی تعداد مقامی ضرورت کے مطابق طے کی جائے گی۔

اب تک 67 ریلیف کیمپ، 38 میڈیکل کیمپ اور 46 ویٹرنری مراکز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ 130 سے زیادہ کشتیاں، 1,300 لائف جیکٹس، 1,600 خیمے اور 500 سے زیادہ ریسکیو اہلکار متحرک کیے گئے ہیں۔

ماحولیاتی خطرات میں اضافہ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو خبردار کیا ہے کہ اگلے سال مون سون کی شدت 22 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے، جو مزید تباہی لا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے تقریباً 45 فیصد گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو اگلے 52 برسوں میں ملک کے 65 فیصد گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں 13,000 سے زیادہ گلیشیئرز ہیں، جو قطب شمالی و جنوبی کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور یہ انڈس دریا کے نظام کو فیڈ کرتے ہیں، جو ملکی زراعت، پانی اور توانائی کے لیے نہایت اہم ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے کہا کہ ’اس سال کی تباہ کن بارشیں بڑی حد تک گلیشیئرز کے پگھلنے کی وجہ سے ہوئیں۔’انہوں نے مزید کہا کہ ’این ڈی ایم اے‘ نے حکومت کو جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اپنانے کی سفارش کی ہے تاکہ موسم کی زیادہ درست پیش گوئی کی جا سکے۔

انسانی و معاشی نقصانات

اب تک ملک بھر میں سیلاب اور موسمیاتی تباہ کاریوں کے باعث 800 سے زیادہ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کو ہر سال تقریباً 4 ارب ڈالر کے سیلاب سے متعلق نقصانات کا سامنا ہوتا ہے۔ رواں سال اپریل کو ملک کی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا گیا۔

ریلیف کمشنر نبیل جاوید نے مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔

عالمی مدد کی اپیل

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اکیلا اس ماحولیاتی بحران کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور عالمی برادری سے ٹیکنیکل اور مالی تعاون کی اپیل کی ہے۔

انہوں نے نئی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’2022 کے تباہ کن سیلاب اور اس سال موسمیاتی حادثات سے 700 سے زیادہ جانوں کا ضیاع اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس بحران کا تنہا مقابلہ نہیں کر سکتا‘۔

مزید پڑھیں:سیلاب متاثرین کی مدد میں سرگرم،پنجاب رینجرز کا ہنگامی ریسکیو آپریشن جاری

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان، جو عالمی گرین ہاؤس گیسز میں معمولی حصہ رکھتا ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے  اور اس وقت اس کی قیمت پنجاب کے سیلاب زدہ میدانوں میں چکائی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *