تاریخی گردوارہ دربار صاحب کرتارپور، جو سکھ مذہب کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے، بھارت کی جانب سے چھوڑے گئے سیلابی پانی میں ڈوب گیا ہے۔ یہ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب بھارت نے دریاؤں میں لاکھوں کیوسک پانی چھوڑ دیا، جو پاکستان کی جانب بہہ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اچانک پانی کے بہاؤ نے پنجاب بھر میں تباہی مچادی اور گردوارہ کمپلیکس کے حصے زیرِ آب آگئے، جس پر دنیا بھر کی سکھ برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقامی رپورٹس کے مطابق، سیلابی پانی نے کرتارپور گردوارے کی بیرونی دیواروں کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور اردگرد کے علاقے بھی زیرِ آب آ چکے ہیں۔ سکھ برادری کا یہ مقدس مقام، جو عالمی سکھ برادری کے لیے انتہائی روحانی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے، اب شدید خطرے سے دوچار ہے۔
سیلاب نے نہ صرف مذہبی ورثے کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ پنجاب بھر میں فصلیں تباہ کر دی ہیں، بنیادی ڈھانچہ نقصان کا شکار ہوا ہے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
حکام کو خدشہ ہے کہ اگر محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق مزید بارشیں ہوئیں تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ کرتارپور راہداری، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی علامت ہے، بھی شدید خطرے میں ہے۔
ایک مقامی سکھ رہنما کا کہنا ہے کہ ’مقامی رہائشیوں اور سکھ برادری کے رہنماؤں نے حکومت پاکستان اور بین الاقوامی فلاحی اداروں سے فوری مدد کی اپیل کی ہے‘۔ ’یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ لاکھوں افراد کا روحانی مرکز ہے۔ ہم فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس مقدس مقام کو بچایا جا سکے اور مزید نقصان روکا جا سکے‘۔
ریسکیو ٹیمیں نقصان کا جائزہ لینے اور مزید سیلابی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہیں، لیکن اس دوران سکھ مذہب کے اس علامتی مقام کا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے۔