پاکستان نے بھارتی بینک کے ’ہائی رسک فنڈنگ‘ کے الزامات مسترد کر دیے

پاکستان نے بھارتی بینک کے ’ہائی رسک فنڈنگ‘ کے الزامات مسترد کر دیے

پاکستان کے مرکزی بینک نے بھارت کے مالیاتی حکام کی جانب سے پاکستان سے منسلک رقوم کو ’انتہائی خطرناک‘ قرار دینے کے حالیہ دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات سیاسی بنیادوں پر مبنی ہیں اور ان کا عالمی مالیاتی اداروں کی جانچ پرکھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بینکنگ شعبہ معیشت میں ریڑھ کی ہڈی، اسٹیٹ بینک مؤثر مالیاتی نظم و ضبط کے لیے کوشاں ہے: گورنر اسٹیٹ بینک

پاکستان اور بھارت کے مالیاتی اداروں کے درمیان یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب بھارت کے مرکزی بینک، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی ) نے 6 اگست کو ایک ہدایت نامہ جاری کیا، جس میں بھارتی بینکوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان فنڈز پر کڑی نظر رکھیں جو مبینہ طور پر پاکستان سے بالواسطہ طور پر آ رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق  آر بی آئی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی رقوم اسلحے کی خریداری کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ یہ اقدام مئی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان ہونے والی 4 روزہ فوجی جھڑپ کے بعد کیا گیا ہے۔

پاکستان کے اسٹیٹ بینک (ایس بی پی ) نے اس دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مالیاتی نگرانی کے نظام عالمی معیار کے مطابق ہیں اور ملک کا ضابطہ کار شفاف اور مضبوط ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے کہا کہ ’ایسے اقدامات عالمی معیار مقرر کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے غیر جانبدارانہ جائزوں کی عکاسی نہیں کرتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں:شرح سود 11 فیصد پر برقرار، معیشت کی بہتری کے لیے کام ہو رہا ہے، گورنر اسٹیٹ بینک

پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے صدر، ظفر مسعود نے بھی اسٹیٹ بینک کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے سخت اور مؤثر قوانین موجود ہیں۔’ہمارا اے ایم ایل، سی ایف ٹی اینٹی منی لانڈرنگ ، کاؤنٹر فنانسنگ آف ٹیررازم نظام سخت اور مضبوط ہے‘۔

اسٹیٹ بینک نے یہ بھی اعادہ کیا کہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ تجارتی اور ترسیلات زر کے معاملات شفاف، منظم اور رواں رہیں۔

یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان براہِ راست مالی لین دین پر پابندیاں ہیں اور ہر ٹرانزیکشن کے لیے ’آر بی آئی‘ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حالیہ ہدایت نامے سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی مالی اور سیاسی کشیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *