بھارت کی تجارتی پالیساں عالمی امن کے لیے خطرہ، امریکا خاموش نہیں رہے گا، سینیئر امریکی قونصلر پیٹر نوارو

بھارت کی تجارتی پالیساں عالمی امن کے لیے خطرہ، امریکا خاموش نہیں رہے گا، سینیئر امریکی قونصلر پیٹر نوارو

امریکا میں وائٹ ہاؤس کے سینیئر قونصلر برائے ٹریڈ اینڈ مینوفیکچرنگ، پیٹر نوارو نے بھارت کی معاشی اور بین الاقوامی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ بھارتی پالیسیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں، جس پر امریکا خاموش نہیں رہے گا۔

بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پیٹر نوارو نے کہا کہ بھارت کی بلند تجارتی ٹیرف اور روس سے جاری تیل کی درآمدات نے امریکی معیشت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار میں ویزا بحران، امریکا کی بھارت سے اسٹریٹجک تعلقات کی حقیقت کھل گئی

پیٹر نوارو نے کہا کہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل کی خریداری، یوکرین جنگ میں مالی طور پر روس کی مدد کے مترادف ہے، جس کا براہِ راست نقصان امریکا کو ہو رہا ہے۔ ان کے بقول، بھارت کی پالیسیاں یوکرین جنگ کو طول دینے کا سبب بن رہی ہیں اور امریکی ٹیکس دہندگان پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بھاری تجارتی ٹیرف عائد کرنے کے نتیجے میں امریکی فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں اور آمدنی میں کمی واقع ہو رہی ہے، جس سے امریکی صارفین، کاروبار اور محنت کش طبقہ شدید متاثر ہوا ہے۔

پیٹر نوارو نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اپنی تجارتی پالیسیوں میں اصلاحات نہ کیں تو اس کے اثرات نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی امن و استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں اس لیے بھارت کی پالیسیوں پر امریکا خاموش نہیں رہے گا۔

مزید پڑھیں:مودی کی ناقص خارجہ پالیسی نے بھارت کو عالمی سطح پر کمزور کر دیا

انہوں نے روس یوکرین تنازع کو ’مودی کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین مسلسل امداد کا مطالبہ کر رہا ہے، جس سے امریکی عوام کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور روس یوکرین جنگ کے معاملے پر دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں فرق دیکھا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *