پنجاب میں سیلابی صورتحال کے متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے پر غور کیا جارہا ہے۔
پنجاب کے چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان کی زیر صدارت پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا اجلاس ہوا جس میں ریلیف کمشنر پنجاب اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا شریک ہوئے۔
صوبائی وزرا خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں کلینک آن وہیلز کو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فوری روانہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ ننکانہ، شیخوپورہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کروانے کی ہدایات کی گئیں۔
چیف سیکریٹری نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ ویلیج قائم کرنے اور تمام اضلاع کے میڈیکل کیمپس میں ضروری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
واضح رہے کہ مون سون کی طوفانی بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے زائد پانی چھوڑنے کے نتیجے میں تینوں دریا بپھر گئے جس کے باعث حکام نے کئی مقامات پر دریا کے کنارے توڑ دیے، اس وقت صوبے کے 1400 سے زائد دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آچکے ہیں، حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں میں دریائے چناب سے 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنے گا۔