سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے، صورتحال تشویشناک

سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے، صورتحال تشویشناک

پنجاب میں سیلاب کے باعث متاثرین ایک اور بڑی مشکل کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔

نجی ٹی وی ’’اے آر وائی نیوز ‘‘کے مطابق بھارت کی جانب سے آبی جارحیت اور ڈیموں سے پانی چھوڑے جانے کے بعد صوبہ پنجاب کے بیشتر اضلاع اور شہر سیلاب کی زد میں ہیں۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی میں طغیانی کے باعث سیالکوٹ، نارووال سمیت کئی اضلاع میں صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے۔

دریائے راوی کا پانی بے قابو ہو کر لاہور کے رہائشی علاقوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث علاقہ مکین موٹر وے پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ سیلاب کے باعث اب تک درجنوں اموات ہو چکی ہیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

سیلاب متاثرین، جو پہلے ہی تباہ کاریوں اور نقل مکانی کے مسائل جھیل رہے تھے، اب وبائی امراض کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ڈینگی، ڈائریا، ملیریا اور جلدی امراض متاثرہ علاقوں میں تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ صرف لاہور میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف وبائی امراض کے 9 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ دیگر متاثرہ شہروں اور دیہات کے اعداد و شمار بھی تشویشناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلابی صورتحال،وزیراعظم کا اعلیٰ سطح کااجلاس بلانے کا فیصلہ

صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے محکمہ صحت و آبادی کی ٹیموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ وزیر صحت نے بتایا کہ تمام متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں، جب کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کر رہی ہیں۔

ادھر فلڈ فورکاسٹنگ کے مطابق بھارت سے ایک اور سیلابی ریلا آج شام دریائے چناب کے ہیڈ تریموں بیراج پہنچے گا، جس کے بعد وہاں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، جب کہ 2 ستمبر کو ہیڈ پنجند کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچنے کا امکان ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *